ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس میں جاسوسی کے الزام میں ایک امریکی تاجر کو 16 برس قید کی سزا سنا دی گئی۔ بند کمرے میں سماعت کے بعد ماسکو کی سول عدالت نے حکم دیا ہے کہ پال ویہلن کو انتہائی سیکورٹی والی جیل میں قید رکھا جائے گا۔ دوسری جانب ملزم نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق سلامتی کے شعبے سے وابستہ سابق میرین کور کے رکن 50 سالہ پال ویہلن کا تعلق مشی گن سے ہے اور اسے دسمبر 2018ء میں ماسکو سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم کے بھائی کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سیاسی ہے اور وکلا کے ذریعے فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ روس میں تعینات امریکی سفیر جان سالیون نے عدالتی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بغیر شواہد کے سنایا جانے والا فیصلہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویہلن کو سزا سنایا جانا انصاف کا مذاق ہے۔ امریکی سفیر نے پال ویہلن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اُدھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ روس پال ویہلن کو بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے تحت آزاد اور شفاف عدالتی کارروائی فراہم کرنے سے قاصر رہا۔ کریملن کے ترجمان دیمتری بیسکوف نے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا جرم عدالت میں ثابت ہوا ہے اور اس فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد کارفرما نہیں۔
روس: جاسوسی کے الزام میں امریکی تاجر کو 16 برس قید
القمر
