English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایغوروں پر ظلم ٹرمپ نے چین پر پابندیاں لگادیں

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم و جبر میں ملوث چینی افسران پر پابندی لگانے کے لیے ایک قانون پر دستخط کردیے۔ یہ نیا قانون نسلی اقلیتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کرنے پر چین کو سزا دینے کے لیے کسی بھی ملک کی طرف سے اب تک کا سب سے اہم قانون ہے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ امریکا چین تعلقات کے مزید خراب ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس نئے قانون پر دستخط کیے، جس کے بعد امریکی انتظامیہ کو مغربی چینی صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھنے اور ان پر ظلم و جبر میں ملوث چینی افسران کے خلاف اقدامات کرنے کی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس نئے قانون پر دستخط کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں مثلاً تطہیری کیمپوں کے منظم استعمال، جبراً مزدوری کرانے، چین میں ایغور ودیگر اقلیتوں کی نسلی شناخت ومذہبی اعتقاد کو ختم کرنے اور انہیں ظلم و جبر کا نشانہ بنانے والوں کو جواب دہ ٹھہراتا ہے۔ ’’ایغور حقوق انسانی قانون‘‘ کے نام سے امریکی کانگریس میں تقریباً مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا یہ قانون امریکی انتظامیہ کو ایسے چینی افسران کی شناخت کرنے پر زور دیتا ہے، جو سنکیانگ میں ایغور اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جبراً حراست، ظلم اور زیادتی کے لیے ذمے دار ہیں۔ ایسے افراد کی شناخت کے بعد امریکا اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ان چینی افسران کے اثاثوں کو منجمد کرسکتا ہے او رملک میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔ امریکا کی طرف سے پابندی عائد کرنے کے نتیجے میں پہلے سے ہی کشیدہ امریکا چین تعلقات مزید خراب ہوجانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایغور مسلمانوں کے حقوق کے لیے سرگرم اور بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کے رکن نوری ترکل نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکی شہریوں نیز چینی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے انسانی حقوق کی زبردست پامالی کا شکار ہونے والے ایغور اور چین میں رہنے والے دیگر ترک نژاد افراد کے لیے ایک بڑا دن ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے بل پر دستخط کرنے بعد چین کی جانب سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے ذریعے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ’بدنام‘ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ چین کے خلاف بدنیتی پر مبنی حملہ ہے۔ چینی وزارت خارجہنے بیان میں کہا کہ ہم ایک بار پھر امریکا پر زور دیتے ہیں کہ اپنی غلطی درست کرے اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور چینی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے قانون کا استعمال روکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے