قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) افریقا میں اس وقت 2 بڑے بحران تیزی سے شدت اختیار کررہے ہیں۔ ان میں ایک لیبیا کا تنازع ہے، جہاں اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ قومی وفاق حکومت ملک کی ساحلی پٹی پر واقع اہم شہر سرت کو باغیوں سے آزاد کرانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کررہی ہے، تو دوسری طرف ایتھوپیا اس متنازع ڈیم کو بھرنے کا اعلان کرچکا ہے، جس پر ہمسایہ ممالک مصر اور سوڈان کو شدید اختلافات ہیں۔ ان دونوں بحرانوں پر غور کے لیے منگل کے روز عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں منعقد کیا گیا۔ یہ اجلاس مصر کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ اجلاس میں لیبیا کی صورت حال اور النہضہ ڈیم کا بحران زیر بحث آئے۔ اس موقع پر عرب وزرائے خارجہ نے دونوں بحرانوں سے متعلق صرف بیان دینے پر اتفاق کیا اور کوئی ٹھوس اقدام پیش نہیں کرپائے۔ سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ عرب لیگ لیبیا میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی حمایت نہیں کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہضہ ڈیم کا مسئلہ مصر اور سوڈان کی آبی سلامتی کے باعث عرب لیگ کے لیے اہم ہے۔ دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت نے انکشاف کیا ہے کہ اسے لیبیا میں 11 اجتماعی قبروں سے جنگی یا انسانیت سوز جرائم کیے جانے کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے قابل معلومات تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ یہ بات عالمی فوجداری عدالت کے اٹارنی جنرل فاتوو بن سودا نے ایک تحریری بیان میں بتائی۔ یہ شواہد باغیوں سے آزاد کرائے گئے شہر ترہونہ اور اس کے نواحی سے ملے ہیں۔ اگرچہ لیبیا عالمی فوجداری عدالت کے معاہدے کا فریق نہیں ہے، تاہم عدالت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کی روشنی میں لیبیا میں سر زد ہونے والے جرائم کی تحقیقات کرنے کے اختیارات حاصل کر لیے تھے۔
افریقا میں لیبیا اور ایتھوپیائی ڈیم کے تنازعات میں شدت
القمر
