ریاض/ نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق تازہ کارروائی کا نشانہ سعودی دارالحکومت ریاض تھا۔ حکام کے مطابق سعودی فضائیہ نے میزائل اور ڈرون فضا ہی میں مار گرائے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ حملے پیر اور منگل کی درمیانی شب کیے گئے۔ منگل کے روز ایک بیان میں عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ فضائیہ نے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا۔ انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں نے 2 مزید بیلسٹک میزائل اور 8 بم بردار ڈرون بھی بھیجے، جنہیں پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ اس سے قبل یمن میں برسرپیکار مسلح حوثی باغیوں نے ایک بیان میں سعودی عرب کے اندر ایک بڑے حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ حوثیوں کے ایک عسکری ترجمان نے کہا کہ اس حملے میں ان کا نشانہ ریاض میں سعودی وزارت دفاع، شاہ سلمان ائربیس اور انٹیلی جنس کی ایک عمارت تھی۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ماضی میں بھی بارہا سعودی عرب پر اس قسم کے حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں سعودی افواج نے یمن میں ان کے ٹھکانوں پر زبردست فصائی حملے کیے۔ ان سعودی حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت شہری بھی مارے گئے، جس کے باعث سعودی حکومت پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ سعودی حکومت کا الزام ہے کہ حوثی باغیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس ماہ اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس سعودی عرب پر یمن سے کیے گئے 4 فضائی حملوں میں استعمال ہونے والے کروز میزائل اور ڈرونز یا تو ایرانی ساختہ تھے، یا پھر ان کے پرزے ایران میں تیار کیے گئے تھے۔ ایران ان الزامات کی نفی کرتا ہے۔ حوثی ملیشیا نے ستمبر 2014ء سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یمن میں خانہ جنگی نے ملکی معیشت کو پہلے ہی تباہ کر رکھا ہے۔ اس انتہائی غریب عرب ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہے، جب کہ غربت اور بھوک کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دوسری جانب عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ یمن میں ہادی حکومت اور عدن کی عبوری کونسل سعودی عرب کی میزبانی میں طے پائے جنگ بندی معاہدے پرعمل کرنے پر متفق ہوگئی ہیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ جزیرہ سقطری اور ابین صوبے میں گزشتہ دنوں سامنے آنے والی پیش رفت کی روشنی میں یمنی حکومت اور عبوری کونسل کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی میزبانی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر یمنی فریقین کا عمل کا اعلان خوش آیند ہے، اور اس کے نتیجے میں یمن میں امن کے قیام اور جاری سیاسی اور عسکری محاذ آرائی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ المالکی نے کہا کہ جنوبی یمن کے علاقے عدن میں حالیہ دنوںمیں انقلابی کونسل اور آئینی حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی افسوسناک ہے۔ انہوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات بالائے طاق رکھ کر جنگ بندی معاہدے پر عمل کریں۔
سعودی عرب پر یمنی باغیوں کا بڑا حملہ ناکام
القمر
