English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شمالی کیرولائنا اور کینٹکی میں ری پبلیکنز کے دو لبرل امیدوار کامیاب

القمر

ریاست شمالی کیرولائنا اور کینٹکی میں ایوان نمائندگان میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدواروں کو ووٹروں نے مسترد کر دیا ہے۔

ریاست کینٹکی اور نیویارک میں ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کی گنتی میں عملے کو مشکل پیش آ رہی ہے اور نتائج میں تاخیر ہو رہی ہے۔

شمالی کیرولائنا میں ریپبلکن ووٹروں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ لینڈا بینیٹ کے خلاف 24 سالہ سرمایہ کار، میڈی سن کاؤتھارن کو منتخب کیا ہے۔ ایوان نمائندگان کی یہ نشست اس وقت خالی ہوئی جب ریپبلکن رکن نے اپنا استعفیٰ پیش کیا اور وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے چیف آف سٹاف کا منصب سنبھالا۔

ریاست کینٹکی سے لبرل ذہنیت رکھنے والے ریپبلکن تھامس ماسی کو چھٹی مدت کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جم کر ماسی کی مخالفت کی تھی۔

کاؤتھارن اس وقت چوبیس برس کے ہیں۔ مگر جب آئندہ کانگریس کا اجلاس ہوتا تو اس وقت 25 برس کے ہوچکے ہونگے۔ امریکی آئین میں رکن کانگریس بننے کیلئے کم از کم عمر پچیس برس ہونی چاہئیے۔ کاؤتھارن کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کے حامی ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ کی خالفت کے باوجود ان کا پارٹی ٹکٹ حاصل کرنا صدر کیلئے شرمندگی کی بات ہے، جن کی خود اپنی انتخابی مہم کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی وجہ سے ریاستیں ڈاک کے ذریعے ووٹ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ تاہم، ڈاک کے ذریعےآنے والے ووٹوں کا ایک انبار سا لگ گیا، جس سےنتائج میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یہ تاخیر نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کےنتائج کا پیش منظر ہو سکتا ہے۔

ریاست کینٹکی میں ڈاک سے ڈالے گئے ووٹوں کی شرح دو فیصد ہوتی ہے۔ مگر اس سال عہدیداروں کو امید ہے کہ یہ شرح پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ریاست نیو یارک میں پانچ فیصد ووٹ ڈاک سےآتے ہیں۔ تاہم، عہدیداروں کو توقع ہے کہ اس سال ڈاک سے آنے والے ووٹوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔

نامزدگی کیلئےہونے والے دیگر مقابلوں میں ریاست کینٹکی سے ایوان کے اکثریتی قائد، سینیٹر مچ میکونل نے آسانی سے ساتویں مدت کیلئے نامزدگی حاصل کر لی ہے۔

ریاست نیو یارک سے ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹ رکن الیگزینڈریا اوکیزیو کورٹیز نے بھی نامزدگی کا مقابلہ آسانی سے جیت لیا۔

ریاست ورجینیا میں ایک ریٹائرڈ کرنل ڈینئیل گیڈ نے بھی سینیٹ کیلئے ریپبلکن ججماعت کی نامزدگی حاصل کر لی ہے۔

نیو یارک اور کینٹکی میں ڈیموکریٹ جماعت یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا گزشتہ ماہ جارج فلائیڈ کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں سے افریقی امریکی اور ترقی پسند ووٹر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے بہت پرانے لوگ دوبارہ نامزدگی جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کچھ نئے نام بھی سامنے آئے ہیں جنہیں حالیہ مظاہروں کی وجہ سے زبردست حمایت حاصل ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے