واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسی یادگاروں کے تحفظ کے لیے ایک انتظامی حکم نامہ جاری کریں گے، جس پر نئے انداز سے نظر ثانی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز کہی۔ اس دوران امریکی پولیس کی زیر حراست جارج فلوئیڈ کی موت پر نسل پرستی کے خلاف مظاہرے بھی جاری رہے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ کنفیڈریسی کے دور کے رہنماؤں کے مجسموں، یادگاروں اور امریکی تاریخ کے دیگر ناگوار پہلوؤں کی علامتوں کو ہٹائے جانے کے خلاف ہیں۔ ریاست ایریزونا میں ایک ریلی میں شرکت کے لیے جانے سے قبل وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ایک انتظامی حکم نامہ جاری کریں گے اور وہ اس لیے ہو گا کہ اس بارے میں پہلے سے موجود قوانین و ضوابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، مگر ایسا زیادہ یکسانیت کے ساتھ ہو۔ ایسے وقت میں جب نسل کی بنیاد پر تعصب اور نا انصافی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں، صدر ٹرمپ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی دلیل ہے کہ امریکی تاریخ کے نفرت انگیز پہلوؤں کی یادگاروں کو مٹانے میں حد پار کی جا چکی ہے۔ پیر کی رات دیر گئے صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے سامنے لفائیٹ پارک میں امریکا کے سابق صدر اینڈریو جیکسن کے مجسمے کو ہٹانے کی کوشش کرنے والوں کو ویٹرنز میموریل پریزرویشن ایکٹ کے تحت 10سال کی قید ہو سکتی ہے۔ صدر نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ خبردار رہیں۔ سابق صدر اینڈریو جیکسن صدر ٹرمپ کے پسندیدہ ترین صدور میں شمار ہوتے ہیں۔ ویٹرنز میموریل پریزرویشن ایکٹ کے تحت اگر کوئی شخص امریکا کی افواج میں خدمات انجام دینے والے کی یاد میں عوام کے لیے سرکاری زمین پر بنائے گئے کسی مجسمے، یادگاری تختیاں، ڈھانچے یا کسی اور یادگار کو جان بوجھ کر نقصان پہنچاتا ہے، یا توڑتا ہے، تو اسے جرمانہ یا 10 سال قید یا ایک ساتھ دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین نے ان علامتوں کو ہٹانے کا شدت سے مطالبہ کررہے ہیں۔ ایسے مطالبات میں تیزی پیدا ہورہی ہے کہ ان مجسموں کو ان کے موجودہ مقامات سے منتقل کردیا جائے۔ ایسے ہی ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران رچمنڈ ورجنیا میں مظاہرین نے پر زور مطالبہ کیا کہ بعض مجسمے جو وہاں نصب ہیں، انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔ یہ مجسمے ان شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نصب کیے گئے تھے جنہوں نے امریکی کنفیڈریسی اور غلامی کے تحفظ کے لیے کام کیا تھا۔
ٹرمپ دور غلامی کی یادگاروں کے تحفظ پر ڈٹ گئے
القمر
