طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا نے عرب لیگ پر دوہرے معیاروں پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگایا ہے، اور ساتھ ہی تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں اپنی نمایندگی کی سطح کم کردی۔ لیبیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا عرب لیگ کے دوہرے معیاروں کے خلاف ہے اور لیگ کے اجلاس میں اپنی نمایندگی کی سطح کو کم کررہا ہے۔ لیبیا گزشتہ سال اپریل سے اجلاس کا مطالبہ کرتا چلا آ رہا تھا، جسے ضروری اکثریت کی موجودگی کے باوجود منعقد نہیں کیا گیا۔ بیان میں لیبیا کے عرب لیگ کے لیے مستقل نمایندے صالح شماخی کے بیان کو جگہ دی گئی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ لیبیا کی فوج نے خلیفہ حفتر کی دہشت گرد ملیشیاؤں کو شکست دے کر ان کے زیر قبضہ شہروں کو آزاد کرایا ہے۔ اس وقت تک آزاد کرایا گیا آخری شہر ترہونہ ہے۔ اب جب کہ حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور طرابلس پر حملوں کو ختم کر دیا گیا ہے تو حفتر کے وہی حمایتی ملک جو پہلے امن اور جنگ بندی کی سب کوششوں کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے، اب مذاکرات کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ لیبیا کے مشرق میں موجود غیرقانونی ملیشیا کے کمانڈر خلیفہ حفتر کے حامی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے شیماخی نے کہا کہ انسانیت کے خلاف کیے گئے جنگی جرائم کے بعد آپ کی جگہ بین الاقوامی عدالت کا کٹہرا ہے۔ جو بھی سرخ لکیر کی بات کرے گا، ہم اسے بتا دیں گے کہ پورا لیبیا شہدا کے خون سے کھینچی گئی سرخ لکیر ہے۔ واضح رہے کہ مصر کے فوجی صدر عبدالفتاح سیسی نے چند روز قبل لیبیا کی سرحد کے قریب ائر فورس یونٹوں کے دورے کے دوران خطاب میں کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو مصری فوج سرحد پار بھی فوجی آپریشن کر سکتی ہے۔ سیسی نے لیبیا کے قبائل کو تربیت دے کر انہیں مسلح کرنے کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ سرت اور جفرہ ہماری سرخ لکیر ہیں۔
عرب لیگ کے دوہرے معیار پر لیبیا کا احتجاج
القمر
