برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) 25 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد یورپی قانون سازوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو ضم کرنے کی منصوبہ بندی ترک کردے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کررکھا ہے کہ آزاد فلسطین کے علاقوں تک اسرائیلی توسیع کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اخباروں میں شائع شدہ اور یورپی وزرائے خارجہ کو بھیجے گئے ایک خط میں ایک ہزار 80 قانون سازوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے اس عمل کے نتیجے میں بین الاقوامی تعلقات پر اثرات کے بارے میں سخت پریشان ہیں۔ مراسلے میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین امن کے امکانات کے لیے مہلک ثابت ہوگا۔ یورپی یونین کے قانون سازوں نے کہا کہ افسوس کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ بین الاقوامی سطح پر متعین اصول و ضوابط کے منافی ہے۔ خط میں 3 بارامریکی صدر کا حوالہ دیا گیا، لیکن اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں براہ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، جو فیصلہ کریں گے کہ فلسطین کا کس حد تک علاقہ ضم ہونا چاہیے۔ قانون سازوں نے اسرائیل اور فلسطین تنازع کے پُرامن حل کے لیے یورپ کے طویل مدتی وعدوں کی تعریف کی اور کہا کہ ہم یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کے جواب میں فیصلہ کن انداز میں عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو بین الاقوامی اداروں کو ساتھ مل کر اسرائیلی منصوبے کو روکنے کی کوشش میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ یورپی یونین اسرائیل کو اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹانے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اگر اسرائیلی وزیراعظم آگے بڑھے، تو اس کے جواب میں انتقامی اقدامات پر زور دے رہی ہے۔ تاہم اسرائیل پر پابندیوں کے لیے تمام 27 رکن ممالک کے اتفاق کی ضرورت ہوگی۔ اس سے قبل فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے فلسطینی علاقوں کو ضم کیا تو فلسطین مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کردے گا، اور عالمی سطح پر اسے تسلیم کرانے کے لیے زور دے گا۔ یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدوں کو مکمل طور پر منسوخ تصور کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔
ایک ہزار یورپی یونین قانون سازوں نے اسرائیلی منصوبے کی مخالفت کردی
القمر
