پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا نے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی قیادت میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا۔ فیصلے کے بعد شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی سرحد پر نصب کیے گئے اپنے لاؤڈ اسپیکر ہٹانا شروع کردیے ہیں،جو سیئول کے خلاف پراپیگنڈے کے لیے گزشتہ ہفتے لگائے گئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پیانگ یانگ کے مرکزی فوجی کمیشن نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد جنوبی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کے وہ منصوبے معطل کر دیے، جن کی منصوبہ بندی کورین پیپلز آرمی نے کی تھی۔ جنوبی کوریا میں موجود شمالی کوریائی منحرفین کی جانب سے مئی کے اواخر میں کم جونگ اُن سے متعلق غباروں کے ذریعے تنقیدی پرچے سرحد پار سے بھیجے جانے کے جواب میں فوج نے 4منصوبے پیش کیے تھے۔ ان میں سے ایک سیئول کے ساتھ مل کر سیاحتی علاقے میں فوج تعینات کرنے اور دوسرا منصوبہ جوابی پرچے سرحد پار پہنچانے کا تھا۔ واضح رہے کہ سیئول کے ساتھ حالات کشیدہ ہونے کے بعد شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے ملنے والی سرحد پر واقع کیسون شہر میں سیئول حکام سے رابطہ قائم رکھنے کا ایک دفتر دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب سے فوجی کارروائی کے منصوبے معطل کرنے کے اچانک فیصلے پر جنوبی کوریا نے محتاط انداز اختیار کرلیا ہے۔ سیئول حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکام کی حالات پر گہری نگاہ ہے اور جزیرہ نما کوریا میں امن سمجھوتوں کا احترام کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
شمالی کوریا نے ہمسایہ ملک پر حملے کا ارادہ ملتوی کردیا
القمر
