پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانسیسی جریدے لاکانار انشین نے بعض سفارت کاروں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ تُرک صدر اردوان لیبیا میں صحیح کھیل کھیل رہے ہیں۔ فرانسیسی میڈیا نے صدر عمانویل ماکروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں خطرناک چالیں چلنے والا ترکی نہیں بلکہ فرانس ہے۔ ریڈیو فرانس کی بین الاقوامی نشریات کے منتظم جین مارک فور نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور سیاست کی رو سے فرانس ترکی کو سبق سکھانے کی حالت میں نہیں ہے۔ فور نے کہا کہ لیبیا میں درپیش حالات سے متعلق اگر کسی کا خاموش رہنا ضروری ہے تو وہ پیرس حکومت ہے۔ لیبیا میں افراتفری و بدنظمی کا آغاز صدر نکولاس سرکوزی کے دور میں شروع ہو ااور فرانس کی طرف سے لیبیا میں باغی حفتر ملیشیا کو اسلحہ کی فراہمی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016 ء میں فرانسیسی خفیہ ایجنسی کے 3ارکان کی بنغازی میں ہلاکت اور امریکا کی جانب سے خاص فرانس کو فروخت کیے گئے اسلحہ کا لیبیا سے ملنا مضبوط ثبوت ہے۔ ادھر صدر ماکروں کے انقرہ مخالف بیان کے جواب میں بعض سفارت کاروں نے کہا کہ تُرک صدر جیو پالیٹیک، عسکری سرگرمیوں، ایندھن اور گیس کے اہداف کو چھپائے بغیر صحیح سمت کی جانب گامزن ہیں ،جس کے اثرات بحیرہ روم، لیبیا اور قبرص میں بھی صاف نظر آ رہے ہیں۔ مشرقی لیبیا میں باغی جنرل حفتر نے روس، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور فرانس پر اکتفا کر رکھا ہے ، جب کہ لیبیا کی حکومت نے ترکی کی مدد سے حفتر ملیشیا کو شکست دی ہے۔ فور نے کہا ہے کہ ترکی لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی مدد اور فرانس سے کہیں زیادہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کر رہا ہے۔
لیبیا میں ترکی کے کردار کی فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں دھوم
القمر
