واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) گوگل نے اپنے نقشے میں تعصب کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین کو الگ ریاست کے بجائے اسرائیل کا حصہ ثابت کر رکھا ہے۔ انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل اورامریکی کمپنی ایپل نے فلسطین کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کو نظر انداز کرکے نقشہ جاری کیا ، جس میں فلسطین کا وجود ہی نہیں ہے۔ گوگل کے سرچ بار میں فلسطین لکھاجائے تو فلسطین کے بجائے اسرائیل دکھائی دیتا ہے اور غزہ اور فلسطین کی حدود کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے ۔گوگل کی اس حرکت پر مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں سماجی کارکن زیک مارٹن نے گوگل کی مذموم حرکت کے خلاف آن لائن پٹیشن کا سلسلہ شروع کیا تھا ، جس میں گوگل سے مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین کو دنیا کے نقشے پر علاحدہ ریاست کے طور پر دکھایا جائے۔ پٹیشن میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ آن لائن مہم پر دستخط کریں اور گوگل کو پیغام دیں کہ اسرائیلی حکومت فلسطین کی زمین پر قابض ہے ۔ آن لائن پٹیشن پر اب تک لاکھوں افراد دستخط کر کے احتجاج کرچکے ہیں اور فلسطینی صحافیوں نے گوگل کے اقدام کو اسرائیلی حمایت کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری جانب گوگل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فلسطین کا نشان نقشے سے ختم کرنے کا دعویٰ غلط ہے، کیوں کہ کمپنی نے کبھی فلسطین کو اپنے نقشے میں شامل ہی نہیں کیا۔ 2016ء میں سب سے پہلے یہ تنازع سامنے آیا تھا۔ گوگل کے نقشے میں فلسطینی علاقوں کو ایک دار لکیر کی صورت میں دکھایا گیا ہے ، جس کا مطلب کہ یہ متنازع علاقہ ہے۔ گوگل سرحدی تنازعات میں پڑنے سے احتراز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس میں صارفین اپنے ملک کا نقشہ دیکھیں گے تو انہیں یوکرائن اور روس کے درمیان ایک ٹھوس سرحد دکھائی دے گی۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے اس وضاحت کو دلائل کے ساتھ مسترد کردیا۔ صارف نے اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ 1918ء کے عالمی نقشے پر فلسطین موجود تھا اور اس وقت دنیا میں کوئی اسرائیل کو جانتا تک نہ تھا۔
گوگل کے نقشے سے فلسطین غائب ہونے پر مسلمانوں میں تشویش کی لہر
القمر
