لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا، برطانیہ اور کینیڈا نے روسی حکومت کے حمایت یافتہ ہیکرز پر کورونا وائر کی ویکسین پر ہونے والی تحقیق سے متعلق معلومات ہیک کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم روس نے نے ان الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں سائبر سیکورٹی کی ایجنسیوں نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ روسی نیٹ ورک کے حمایت یافتہ ہیکرز کورونا وائرس کی ویکسین کی ریسرچ سے متعلق معلومات تحقیقی مراکز اور ادویات تیار کرنے والے اداروں سے ہیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ برطانیہ کے سائبر سیکورٹی سینٹر (این سی ایس سی) نے شائع کی ہے اور اس سائبر حملے کے لیے ’’اے پی ٹی20‘‘ نامی گروپ یا پھر ’’کوزی بیئر‘‘ پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات تقریباًطے ہے کہ یہ گروپ یقینی طور پر روسی خفیہ ادارے کے لیے کام کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ویکسین سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے امریکا، برطانیہ اور کینیڈا کے حکومتی، سفارتی، تھنک ٹینک اور صحت سے متعلق اداروں کو نشانہ بنایا۔ این سی ایس سی کا کہنا ہے کہ ہیکرز حساس نوعیت کے ڈیٹا کو پہلے اسکین کرتے ہیں، پھر مصدقہ کریڈینشیل چوری کرتے ہیں اور اس کے بعد دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے کے لیے میل ویئر کا استعمال کرتے ہیں۔ ہیکرز کا یہ گروپ اسپیئر فشنگ کے طریقہ کار کا بھی استعمال کرتا ہے، جس کے تحت پہلے ایک ای میل بھیجی جاتی ہے، تاکہ پہلے مرحلے میں اکاؤنٹ سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ہیکرز کسی طرح کی معلومات چوری کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں، کیوں کہ رپورٹ میں کسی ایک خاص ادارے کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات طے ہے کہ کسی شخص کی معلومات کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں ہوا۔ روس نے ہیکنگ کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ بلا کسی ثبوت کے اس طرح کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس برطانیہ میں دواساز اور تحقیقی اداروں کی ہیکنگ کے حوالے سے کسی بھی طرح کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ روس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
روسی ہیکرز پر کورونا ویکسین کی تحقیق چرانے کا مغربی الزام
القمر
