English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان ملا عمر کے بیٹے ملا محمد یعقوب ملٹری ونگ کے سربراہ مقرر

القمر

کابل(صباح نیوز)افغان حکومت سے ممکنہ مذاکرات کے لیے طالبان نے صفوں میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سابق امیر طالبان ملا محمد عمر کے بیٹے ملا محمد یعقوب کو ملٹری ونگ کا سربراہ بنا دیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے طالبان حکام نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے طالبان نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں طاقتور شخصیات کو شامل کیا ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ 20 رکنی مذاکراتی ٹیم میں مزید چار ارکان کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ نئی مذاکراتی ٹیم میں ملا ہیبت اللہ کے قریبی ساتھی اور اہم رہنما عبدالحکیم کے ساتھ طالبان حکومت میں چیف جسٹس کے طور پر تعینات رہنے والے مولوی ثاقب بھی شامل ہیں۔طالبان ذرائع نے بتایا کہ یہ رد و بدل طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ کی نگرانی میں ہوا ہے جس کا مقصد تحریک
کے فوجی اور سیاسی بازں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اچھی خبر ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے طالبان امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔واشنگٹن میں موجود یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے ایشیا پروگرام کے نائب صدر اینڈریو وائلڈر کا کہنا ہے کہ میں کہوں گا کہ یہ ایک مثبت پیشرفت ہے کیونکہ طالبان ایک ایسا وفد تیار کر رہے ہیں جو زیادہ تجربہ کار اور وسیع البنیاد ہے۔افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ امریکا نے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت فوجیوں کی تعداد کم کرنے اور پانچ فوجی اڈے خالی کرنے کے وعدے پر عمل کیا ہے۔ ہم قیدیوں کی رہائی، تشدد کم کرنے اور بین الاافغان مذاکرات پر زور دیں گے۔انہوں نے افغان سکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی اور یہ بھی کہا تھا کہ طالبان نے امریکی اور نیٹو فورسز پر کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔دوسری طرف طالبان نے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے عمل کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا کہ امریکا نے افغان حکومت کی حمایت میں جن علاقوں میں جنگ نہیں ہو رہی وہاں مسلسل بمباری کی اور حملے کیے ہیں۔طالبان نے امریکی پائلٹس پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ انہوں نے گذشتہ دس روز میں عام شہریوں اور انفراسٹرکچر پر بمباری کی۔طالبان نے کہا ہے کہ یہ سب معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور جان بوجھ کر طالبان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بڑے حملے کریں۔ مئی میں ملا یعقوب کی تعیناتی کے بعد طالبان نے افغان فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے جس کا مقصد مذاکرات میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا ہے۔ملا یعقوب پہلے ہی طالبان کے ڈپٹی ہیڈ تھے اور مجلس شوری سے مشورہ کیے بغیر ان کی بطور ملٹری چیف تعیناتی سے شوری کے اراکین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا یعقوب نے شوری سے ملاقات کر کے اختلاف رائے رکھنے والوں کا اعتماد حاصل کیا ہے۔طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں لیکن امید کی جا رہی ہے جولائی کے آخر میں بین الافغان مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے