برلن (رپورٹ :مطیع اللہ )بھارت میں تحریک آزادی سے قبل بھی کشمیریوں پر ظلم و ستم ہوتا رہا گزشتہ سال اگست میں مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد کشمیر سمیت پورے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں و دیگر اقلیتوں کو بدترین ظلم کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جرمنی میں تعینات نئے پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستانی سفارتخانے کے زیر انتظام 89ویں یوم شہدائے جموں و کشمیر کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزادی تک کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، اگست میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے سنگین مسئلے کو ہر عالمی فورم پر اٹھایاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیری عوام 1947ء سے قبل سے مظالم کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں۔تقریب میں جرمن زبان میں مقامی شرکا کو 13 جولائی 1931ء کے روز سری نگر کی سینٹرل جیل کے احاطے میں مہاراجہ ہر سنگھ کی فوج کے ہاتھوں درجنوں کشمیریوں کو شہید کیے جانے کے واقعے سے بھی آگاہ کیا گیا۔تقریب میں جرمن دانشور، صحافی اور پاکستانی کمیونٹی کی سماجی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں شرکاء کو مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر عرصہ دراز سے جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے دستاویزی فلم کے ذریعے معلومات فراہم کی گئیں۔
اگست میں مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر اٹھائیں گے، ڈاکٹر محمد فیصل
القمر
