نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فسادات میں مسلمانوں کے مکانات، دکانوں اور مساجد کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور اس دوران انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی،جو بلوائیوں کو شہ دینے اور ان کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ ادھر پولیس نے انتہاپسندوں کو روکنے کے بجائے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور مسلمانوں کے قتل عام اور لوٹ مار میں برابر کی شریک رہی۔ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے احتجاج ختم کرنے کی آڑ میں مسلمان نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کو نشانہ بنایا گیا۔ کمیشن نے واضح الفاظ میں لکھا کہ پولیس نے کئی واقعات میں مسلمانوں پر فرد جرم عائد کی، جب کہ وہ مکمل طور پر بے قصورتھے۔ رپورٹ میں 23فروری کے فسادات میں بی جے پی کے چند سینئر ارکان پر بھی تشدد بھڑکانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔دوسری جانب نئی دہلی پولیس کے ترجمان انیل متل نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ میں شامل الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے درست انداز میں کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 752 ایف آئی آر درج کیں، 200سے زائد افراد کو چارج شیٹ کیا گیا اور فسادات سے متعلق 1400سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے 3خصوصی تفتیشی ٹیمیں بنائی تھیں اور اب بھی شکایات وصول کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ واضح رہے کہ ہنگاموں کے دوران53مسلمان شہید اور 200سے زائد زخمی ہوئے۔ 11مساجد اور5مدارس کو بلوائیوں نے نذرآتش کیا۔ بھارت میں فسادات کی ابتدا اس وقت ہوئی،جب کہ 10جنوری کو مودی سرکار نے شہریت ترمیمی قانون ’ سی اے اے ‘ کو ملک بھر میں نافذ کردیا۔ متنازع قانون خطے کے ممالک سے تعلق رکھنے والے 6 مذاہب کے پیروکاروں کو شہریت فراہم کرنے کے بارے میں ہے، تاہم مودی سرکار نے انتہا پسندی اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا۔ قانون کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں پرامن مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا،جسے بعد میں بی جے پی نے سازش کے تحت پُرتشدد بنادیا۔ اس دوران مسلمانوں کے بڑے تعلیمی اداروں پر حملے کیے گئے اور نوجوان کو زدوکوب کیا گیا۔
