واشنگٹن/بیجنگ ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے چین کو ٹیکساس کے شہرہیوسٹن میں قونصل خانہ 72 گھنٹے میں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگس نے کہا ہے کہ چینی قونصل خانے کی بندش کے احکامات امریکی تحقیقات اور نجی معلومات کے تحفظ کے لیے دیے گئے ہیں، چینی سیاسی اقدامات نے اس فیصلے پراکسایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چین کی جانب سے اپنی خودمختاری اور اپنے لوگوں کو دھمکانے کے سلسلے کو برداشت نہیں کر سکتے، اسی طرح ہم چین کی غیرمنصفانہ تجارتی پالیسیوں، امریکی نوکریوں کی چوری اور دوسرے قابل مذمت رویے کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ مورگن اورٹاگس نے ویانا کنونشن کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔واضح رہے کہ چینی قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایک روز قبل 2 چینی باشندوں پر فردِ جرم عاید کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جن پر امریکا میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تحقیق کی جاسوسی کا الزام ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یہ کام چین کی سیکورٹی اداروں کے لیے کیا۔یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے خلاف کھلے عام بات کرنے کے سلسلے کو تیز کرتی رہے گی۔چین نے اس قونصل خانے کی بندش کے فیصلے کو غیر معمولی اور ایسا فیصلہ قرار دیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ چین کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ اشتعال انگیز اور بلاجوازہے،یہ عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چینی محکمہ خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن نے کہا کہ بدنامی اور بلاجواز حملوں کے ذریعے امریکا سارا الزام چین پر ڈالنا چاہتا ہے، تعلقات بگاڑنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے لیکن اگر وہ اس غلط راستے پر چلنے پر بضد ہے تو پھر چین بھی سخت جوابی کارروائی کرے گا۔وینگ وینبن نے کہا کہ اگر چینی اور امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی تعداد اور ان میں کام کرنے والے اہلکاروں کی تعداد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو چین میں زیادہ امریکی لوگ کام کر رہے ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز نے ایک عوامی سروے شروع کیا ہے کہ چین میں کس امریکی قونصل خانے کو بند کیا جائے اور اطلاعات کے مطابق چین ووہان میں امریکی قونصل خانے کی بندش پر غور کررہا ہے۔بی بی سی کے مطابق یہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سفارتی جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدر منتخب ہونے کی مہم جاری ہے اور کووڈ 19 سے امریکی معیشت اور معاشرہ بری طرح متاثر ہوا ہے، صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ چین کا کارڈ کھیل کر وہ سیاسی فوائد اٹھا سکتے ہیں۔ہیوسٹن کے چینی قونصل خانے میں کچھ غیر معمولی ہونے کے پہلے اشارے اس وقت ملے جب قریب ہی رہنے والے لوگوں نے دیکھا کہ عمارت کے صحن میں کئی کوڑے دانوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ لوگ کوڑے دانوں میں کاغذات پھینک رہے ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ کون تھے۔ اس کے بعد کچھ لوگوں کی فلم بنائی گئی جو کوڑے دانوں میں پانی ڈال رہے تھے۔ منگل کی شام کو ایمرجنسی سروس کو بلایا گیا تاہم ہیوسٹن کی پولیس نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن انہوں نے دھواں دیکھا تھا۔چینی ترجمان نے اس آگ کے بارے میں براہ راست کوئی بات نہیں کی اور صرف یہ کہا کہ قونصل خانہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
امریکامیں چینی قونصل خانہ بندکرنیکا حکم۔ جواب دینگے‘چین
القمر
