خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں 30 برس قبل فوج کے 28 افسران کو سزائے موت دی گئی تھی، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان افراد کو کہاں دفن کیا گیا ہے۔ سوڈانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت خرطوم کے نزدیک واقع شہر ام درمان میں ایک اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا ہے، جس سے متعلق امکان ہے کہ یہ ان 28 افسران کی ہو سکتی ہے، جنہیں 1990ء میں اس وقت کے صدر عمر البشیر کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ سوڈانی استغاثہ کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ وہی اجتماعی قبر ہے جس میں قتل کیے جانے والے افسران کو وحشیانہ طریقے سے دفن کیا گیا کیوں کہ اس اجتماعی قبر کا تعین 3 ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے بعد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بغاوت کا واقعہ جون 1989ء میں صدر عمر البشیر کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد سامنے آیا تھا، جس میں سوڈانی فوج کے مختلف یونٹوں کے افسران نے مشترکہ طور پر ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔بعد میں عدالت نے ان افسران میں سے 28 کو سزائے موت سنائی تھی۔
سوڈان میں 30 برس بعد فوجی افسران کی اجتماعی قبر دریافت
القمر
