نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو تیسری بار قونصلر رسائی کی پیشکش پر خاموشی کے بعد اب بھارت نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ پاکستان میں کلبھوشن یادیو کو سفارتی رسائی اور عدالتی اختیارات دیے جانے کے حوالے سے نا مناسب طرز عمل اختیار کیا ہے جو بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم کی خلاف ورزی ہے چنانچہ بھارت اسکے خلاف اپیل کے اختیارات اور حق کو استعمال کرے گا۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو اپنی خصوصی پریس بریفنگ میں دعوی ٰکیا کہ بھارت نے ایک سال کے دوران کلبھوشن یادیو کو سفارتی رسائی کے لیے پاکستان سے بارہ مرتبہ درخواست کی لیکن پاکستان اب تک ان سے مداخلت کے بغیر رسائی فراہم نہیں کر پا رہا۔ترجمان نے مزید کہا کہ 16 جولائی 2019 کو ہندوستانی سفارت کاروں سے ملاقات کے دوران پاکستانی سرکار نے رکاوٹ ڈالی اور اس موقع پر اسے سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ کوئی تحریر شدہ کاغذ بھارتی سفارتکار کو نہیں دے سکتا۔ بھارت مفروضے کی بنیاد پر پاکستان پر لگائے جانے والے اس طرز عمل کو پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی عدالت کی توہین کے مترادف قرار دے دیا۔دوسری جانب ، وزیرِ قانون فروغ نسیم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان قونصلر رسائی نہیں دے گا تو بھارت عالمی دنیا میں شور مچائے گا، اگر آرڈیننس نہ لاتے تو بھارت سلامتی کونسل میں چلا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس لا کر پاکستان نے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں
کل بھوشن معاملے پر پاکستانی رویہ نا مناسب ہے،اپیل کریں گے،بھارت
القمر
