English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایا صوفیا پر ردعمل اسلام دشمنی ہے ، ترکی کا یونان کو جواب

استنبول: ایا صوفیا کے اندر زیادہ افراد کی آمد پر پابندی کے باعث شہری باہر نمازیں ادا کررہے ہیں‘ وزارت خارجہ کے ترجمان یونان کو جواب دے رہے ہیں

 

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ایاصوفیا کی بطور مسجد بحالی پر یونان نے ترکی کے خلاف محاذ قائم کررکھا ہے۔ یونانی حکومت کی اشتعال انگیزی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ 86برس بعد اس تاریخی عمارت میں دوبارہ نماز ادا کیے جانے یونان سیخ پا ہے۔ یونان کی جانب سے تنقید پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تُرک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے نے ہفتے کے روز کہا کہ یہ پیش رفت یونان کی اسلام اور ترکی سے دشمنی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے ایتھنز حکومت اور ارکان پارلیمان کی جانب سے تنقید کو لوگوں کو ترکی کے خلاف اکسانے کی ایک کوشش بھی قرار دیا۔ اسی طرح صدر رجب طیب اردوان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو گرانے اور گھٹنے ٹیکنے کی توقع رکھنے والوں کو ایک بار پھر مایوسی ہوئی ہے۔ صدر اردوان نے استنبول میں قصر واحدالدین سے آماسیہ موٹر وے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ترکی کو نشانہ بنائے جانے والے ہر حملے اور چال کے بعد اس کو کمزور بنانے کے خواب دیکھنے والوں کو ہمیشہ مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔ طاقتور اور عظیم ترکی پر مبنی ہمارا نقطہ نظر اب آہستہ آہستہ ہماری ہڈیوں تک سرایت کرنے لگا ہے اور ہم اس کا ثمر حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی کے اقدامات پر واویلا کرنے والوں کی ناکامی کا سبب ترکی کی ہر شعبے میں طاقت اور اس کا اٹل موقف ہے۔ ہماری کسی کی سر زمین اور قدرتی وسائل پر نظریں نہیں، تا ہم اپنے مفادات کی جانب کسی کو ہاتھ بڑھانے کی ہم ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ حالیہ ایام میں واویلا کرنے والے ممالک کا ہدف ایاصوفیا یا پھر مشرقی بحیرۂ روم نہیں، بلکہ دراصل تُرک قوم اور مسلمانوں کا جغرافیہ ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ اس حقیقت کا اب ہر کس نے احساس کرنا شروع کر دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے