میہڑ (نمائندہ جسارت) معروف صوفی فنکار سید وزیر علی شاہ کی جانب سے محفل میں گائے گئے کلام میں اعتراض والے الفاظ استعمال کرنے کے بعد صوفی فنکار وزیر شاہ کی جانب سے جسقم کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر نیاز کالانی، سردار نور احمد تیونو اور دیگر علی ٹاؤن میہڑ مدرسہ پہنچے جہاں پر انہوں نے جے یو آئی ضلع دادو کے رہنماؤں مولانا انور کونھارو، مولانا مسعود احمد پنہور، مولانا حبیب الرحمن ملکانی، مولانا عبداللہ چانڈیو، مولانا عبدالواحد چانڈیو، اظہار الحق رند سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صوفی فنکار سید وزیر شاہ نے اپنے کلام میں اعتراض والے الفاظ والا کلام گانے پر مسلمانوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ لاشعوری طور پر گائے گئے کلام کے ذریعے دل آزاری پر میں سب مسلمانوں سے معافی مانگتا ہوں۔ تمام صحابہ کرامؓ باعث عزت و احترام ہیں، چاہتا ہوں کہ میری اس غلطی کو نظر انداز کیا جائے۔ اس موقع پر جسقم کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر نیاز کالانی نے نیشنل پریس کلب میہڑ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں، مذہبی انتہا پسندی قوم کے لیے نقصان دہ ہے، ہم چاہتے ہیں سندھ سے قبائلی، لسانی، فرقہ واریت کا خاتمہ ہو۔ سندھ پُرامن صوبہ ہے، سندھ میں مذہبی رواداری کو برقرار رکھا جائے گا، ہم سندھ کے سب علماء کرام سے رابطے میں ہیں تاکہ سندھ میں فرقہ واریت ختم کرکے مذہبی برداشت والا ماحول قائم کیا جاسکے۔ جے یو آئی کے رہنماؤں کی جانب سے صوفی فنکار سید وزیر شاہ اور قوم پرست رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی اور دیگر کی جانب سے آنے پر ان کو معاف کرکے اپنی جاری احتجاجی جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کیا۔
سندھ میں مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ڈاکٹر نیاز کالانی
القمر
