نیویارک(آن لائن) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکام آئینی حیثیت کی منسوخی کے صرف ایک سال بعد ہی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں پر سخت اور امتیازی پابندیاں عاید کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔ نیویارک میں ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے ایک بیان میں کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے آزادانہ تقریر ، معلومات تک رسائی ، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کے حقوق پر غیرضروری پابندیاں سخت کردی گئی ہیں۔نقل و حرکت کی آزادی ، عوامی جلسوں پر پابندی عاید کی ہے، ٹیلی مواصلات کی خدمات اور تعلیمی اداروں کو بند کردیا اور ہزاروں افراد کو نظربند کیا گیا جنہیں گرفتاری کی دھمکی دی جارہی ہے ۔ بھارتی حکام نے احتجاج کو روکنے کے لیے ہزاروں افراد کو حراست میں لیاجن میں 144 بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پر امن نقادوں کو روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی اور بغاوت کے سخت قوانین کا استعمال کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ، مشیل بیچلیٹ نے بھی جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔
بھارت نے کشمیر میں امتیازی پابندیاں عاید کیں‘ہیومن رائٹس واچ
القمر
