بیروت (رپورٹ: منیب حسین) کئی ماہ سے سیاسی عدم استحکام کے شکار عرب ملک لبنان میں بندرگاہ پر ہونے والے ہول ناک دھماکوں کے بعد حکومت نے عوامی اور بین الاقوامی دباؤ میں آکر استعفا دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق لبنانی وزیراعظم حسان دیاب نے اپنی کابینہ کے اجلاس کے بعد پیر کی شام مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے صدارتی محل جا کر صدر میشال عون کو اپنا استعفا پیش کردیا، جسے صدر نے قبول بھی کرلیا۔ حسان دیاب نے کابینہ کے اجلاس کے بعد ٹیلی وژن پر قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم پیچھے ہٹ رہے ہیں، تاکہ اپنے عوام کے ساتھ تبدیلی کا معرکہ لڑ سکیں۔ اس لیے میںآج اپنی حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کررہا ہوں، اللہ تعالیٰ لبنان کی حفاظت فرمائیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں کرپشن خود ریاست سے زیادہ مضبوط ہے، جب کہ ریاست اسی بدعنوان ٹولے پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔ ریاست اس کا مقابلہ کرنے یا اس سے جان چھڑانے کی سکت نہیں رکھتی۔ اسی کرپشن کا نتیجہ بیروت بندرگاہ پر دھماکوں کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو لگنے والے جھٹکوں نے آج ہمیں بھی گرا دیا ہے۔ ہماری ترجیح ان دھماکوںکی وجوہات جاننا اور اس کے ذمے داروں کا تعین کرنا ہے۔ حسان دیاب نے کہا کہ لوگ اس سانحے پر بھی سیاست کررہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے گزشتہ 7 سال میں ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا۔ یاد رہے کہ گزشتہ منگل کو بیروت کی بندرگاہ پر ہول ناک دھماکوں کے نتیجے میں 160 افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ غربت، بیروزگاری اور اداروں میں کرپشن کے باعث عوام پہلے ہی کئی ماہ سے سڑکوں پر تھے، جب کہ ان دھماکوں نے لوگوں کے غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ اس کے نتیجے میں جمعرات کی شام سے حکومت کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کی نئی لہر شروع ہوئی ، جس کے بعد ایک ایک کرکے وزرا نے استعفا دینا شروع کردیا۔ اتوار کے روز وزیراعظم نے قبل از وقت انتخابات کا اشارہ بھی دیا، جس کے بعد سے حکومت کے مستعفی ہونے کی باتیں چل رہی تھیں۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے لبنان کیکئی سیاسی شخصیات کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔ فرانس ان لبنانی شخصیات کی بیرون ملک موجود دولت ضبط کرنے کے ساتھ ویزے جاری کرنے پر پابندی لگا سکتا تھا۔
لبنانی وزیراعظم کابینہ سمیت مستعفی
القمر
