کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ہاکی ٹیم کے اولمپیئن سابق کپتان ناصر علی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی خاطر امریکی اور ملائیشین شہریت چھوڑ دی۔انہوں نے بتایا کہ بھارت پاکستان کی فتح کبھی برداشت نہیں کرتا،پاکستان جیتتا تو بھارت میں پتھراؤ بھی ہوتا۔پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ناصرعلی نے بتایا ہے کہ جب قومی ٹیم نے 1986 میں لاس اینجلس اولمپکس میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تو امریکی شہریت اور ہزاروں ڈالرز کی تنخواہ کی پیشکش ہوئی تاہم پاکستان کی خاطر انھوں نے یہ قبول نہیں کی۔ناصر علی نے بتایا کہ بھارت میں پاکستان کی جیت کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ پاکستان نے جب بھارت کو ان کے ہی ملک میں شکست دی تو اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی پاکستانی کھلاڑیوں کو میڈل پہنائے بغیر وہاں سے چلی گئی تھی۔ناصرعلی کا مزید کہنا تھا کہ سال 2014 کی چیمپئنزٹرافی میں2مرتبہ بھارت میں حملہ ہوا اور بھارت کیخلاف میچ جیتنے پر بھی شائقین نے پتھراؤ کیا۔دوسری طرف سابق ہاکی اولمپئن قمرابراہیم نے انکشاف کیا ہے کہ سال 1989 کے ایشیا کپ میں جب پاکستان نے بھارت کو شکست دی تو پاکستان ٹیم پر بھارت میں حملہ کردیا گیا تھا اور ٹیم کی بس پر پتھراؤ سے ٹیم مینیجر زخمی بھی ہوئے تھے۔سابق ہاکی اولمپئن قمرابراہیم نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ 1989میں بھارت کوبھارت میں پاکستان نے ایشیاء کپ میں شکست دی تھی۔ اس شکست پر بھارتی شائقین غصے سے آگ بگولہ ہوگئے تھے۔قمرابراہیم نے بتایا کہ پاکستان ٹیم ڈھائی گھنٹے شیوجی ہاکی اسٹیڈیم کے چینجنگ روم میں موجود رہی۔ اس کے بعد نئی دلی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی بس کا پیچھا کرکے پتھراؤ کیا گیا جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور پاکستانی ٹیم کے منیجر زخمی بھی ہوئے۔قمرابراہیم نے مزید بتایا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کی کھلاڑیوں نے ہاکیاں لیکرحملہ آوروں کاپیچھا کیالیکن وہ بھاگ گئے۔سابق ہاکی اسٹار کا کہنا تھا کہ بھارت کوبھارت میں شکست دیں توہمیشہ مشکل حالات کاسامناکرناپڑتاہے۔
