English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی‘ فیس بک بھارتی کٹھ پتلی بن گیا

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سماجی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹ فیس بک بھارت میں حکمراں بی جے پی کے رہنماؤں کے معاملے میں بہت نرمی برتتی ہے۔ فیس بک انتظامیہ بی جے پی اور انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کے رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر اور پوسٹوں کے خلاف کارروائی کرنے میں جان بوجھ کر سستی کا مظاہرہ کرتی ہے،جو دونوں شد ت پسند جماعتوں کی واضح حمایت کے مترادف ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس کے کئی رہنماوں نے بھی فیس بک پر انتخابی امورمیں بی جے پی اور آ ر ایس ایس کی جانب داری کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ بھارت میں فیس بک اور واٹس ایپ پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا قبضہ ہے، جو جعلی خبریں اور نفرت پھیلاتے ہیں۔ یہ الیکشن کو متاثر کرنے میں بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ آخر کار امریکی میڈیا میں فیس بک کے بارے میں سچائی سامنے آہی گئی۔ انہوں نے اس معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ کانگریس کے رہنما اجے ماکن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ جے پی سی کو تفتیش کرنی چاہیے کہ فیس بک اور واٹس ایپ انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے اور نفرت کا ماحول بنانے کے لیے کس طرح کام کررہے ہیں۔دوسری جانب بھارت میں فیس بک کے ترجمان نے راہول گاندہی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ کسی طور بھی بی جے پی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی ایک آزاد ادارہ ہے، جو کسی بھی ملک کی سیاسی پالیسیوں سے قطع نظر رابطے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے