English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی میڈیا کا تعصب مندروں پر آنکھیں بند،مساجد نشانہ

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکارکی جانب سے کورونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں اور خاص طور پر تبلیغی جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کے مزید شواہد سامنے آگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بھارت کے کئی علاقوں کے مندروں میں کورونا وائرس کے کیس بہت تیزی سے سامنے آرہے ہیں، لیکن سیکولر ازم کی مالا جپنے والی ہندو انتہاپسند حکمراں جماعت اس پر بالکل خاموش ہے۔ ادھر مودی سرکار کا کٹھ پتلی میڈیا تبلیغی جماعت پر ملک میںکورونا وائرس پھیلانے کی شرانگیز مہم میں پیش پیش رہا، تاہم اب ناقدین کے سوالوںکا سرکاری اینکروں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا پہلے ہی جانب دارانہ صحافت اور کھل کر ہندو قوم پرستوں اور انتہاپسندوں کی حمایت کے باعث عالمی سطح پر بدنام ہوچکاہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مارچ اور اپریل میں بھارتی میڈیانے جس طرح تبلیغی جماعت کے خلاف مہم شروع کی تھی، اس کے برعکس اب ملک کے بڑے بڑے مندروں سے کورونا وائرس پھیلنے کی خبروں کو پیش ہی نہیں کیا جارہا ۔ جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں معروف وینکٹ ایشور مندر میں کام کرنے والے 743 افراد میں کوروناکی تشخیص ہوئی اور ان میں سے 3ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد مندر میں حفاظتی اقدامات کرنے اور لوگوں کی آمدو رفت محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم مودی سرکار کے ایما پر مندر کی انتظامیہ نے اس سے یکسر انکار کردیا۔ آندھرا پردیش بھارت کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں کورونا سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے ،تاہم ملکی میڈیا کی جانب سے مندر میں وائرس کے پھیلاؤ کی خبروں کو نشریات کے کسی کونے میں بھی جگہ نہیں دی جارہی۔ بی جے پی کے اشاروںپر میڈیا کے ناچنے کا سب سے بڑا مظاہرہ اس وقت ہوا،جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں جاری کورونا لاک ڈاؤن اور تمام پابندیوں کو روندتے ہوئے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا افتتاح کیااور میڈیا نے تنقید تو درکنار اس کی شاندار کوریج کی اور جشن میں انتہاپسندوں کا برابر کا ساتھ دیا۔ تقریب کے بعد خبر سامنے آئی کہ اس میں شریک ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور وزیر اعظم مودی نے اس سے ہاتھ ملایا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملکی میڈیا بی جے پی کے لیے تعلقات عامہ کا کردار ادا کررہا ہے اور عوام کو وہی دکھا رہا ہے،جو حکومت اس سے چاہتی ہے۔ بھارت میں صحافت خطرے میں ہے اور صحافت کے نام پر صرف کاروبار چل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے