English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت ،شہریت قانون احتجاج پر مسلمان تاحال زیر عتاب

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں بی جے پی کی حکومت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے بعد مسلمان تاحال مختلف طرح سے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر عتاب کا شکار ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق دارالحکومت دہلی کی پولیس نے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کو فروری میں ہونے والے فسادات کو برپا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ شرجیل امام پر متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کا انتظام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق تاریخ کے طالب علم 31 سالہ شرجیل امام کو غیر قانونی سرگرمیاں روکنے کے نام نہاد قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کرکے آسام سے دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس نے دہلی کے علاوہ اتر پردیش، منی پور، آسام اور ارونچل پردیش میں بھی بغاوت کے الزام میں نوجوان پر مقدمہ درج کررکھا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکومت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف ملک میں فسادات ہوئے تھے، جسے ہندو انتہا پسند سیاسی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی ذیلی دہشت گرد تنظیموں نے مذہبی رنگ دے کر سیاست چمکانے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے دو تہائی مسلمان تھے جب کہ مساجد کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے