واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) خلیجی خطے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی نئی لہر کے دوران امریکی حکومت نے عرب ممالک کی اپنے عوام کو مطمئن کرنے سے متعلق جھوٹی مہم کا پردہ چاک کردیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازع سے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نوازی میں سرگرداں کچھ عرب ممالک نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ صہیونی ریاست کو تسلیم کرکے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق اعلان کے تناظر میں ایک صحافی نے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے سوال کیا کہ کیا اب ٹرمپ انتظامیہ اپنے مجوزہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے میں کوئی ترمیم کرے گی اور مشرقی بیت المقدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی آزاد فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر اس منصوبے میں شامل کرے گی؟ اس پر ترجمان نے واضح کیا کہ مجوزہ منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساتھ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے اس تاریخی شہر میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
