نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت اور چین کے درمیان سرحدی علاقے میں کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے۔ اس تناؤ کا آغاز مئی میں مشرقی لداخ کے علاقے میں ہوا۔ 15 جون کو وادیٔ گلوان میں دونوں فوجوں کے درمیان بدترین جھڑپ ہوئی، جس میں بھارتی فوج کے افسران سمیت 20 اہل کار مارے گئے۔ یہ 45 برسوں کے دوران دونوں ممالک میں ہونے والی بدترین جھڑپ تھی۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جیشنکر نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ صورت حال1962ء میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد بدترین کشیدگی ہے۔ ایس جے شنکر نے بھارتی نیوز ویب سائٹ ’’ریڈیف ڈاٹ کام‘‘ کو انٹرویو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود مشرقی لداخ میں ساڑھے 3 ماہ سے کشیدگی ہے اور دونوں افواج آمنے سامنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر دونوں جانب اس وقت جتنی فوج تعینات ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم نے چین کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ سرحدی علاقے میں امن کا قیام دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد ہے۔ انہوں نے ماضی کی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی، اسے سفارت کاری سے حل کیا گیا۔ ایس جے شنکر نے مزید کہا کہ موجودہ تعطل کو ایل اے سی کو یک طرفہ طور پر تبدیل کیے بغیر، تمام معاہدوں اور افہام و تفہیم سے دور کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہبھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت فوجی کارروائی کو متبادل قرار دے چکے ہیں۔
