انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بشار الاسد انتظامیہ نے گزشتہ 4 برس کے دوران کم از کم 13 ہزار 278 شہریوں کو ہلاک اور تقریباً 19 ہزار کو گرفتار کیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پیش کرنے والے نیٹ ورک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسد انتظامیہ شام میں اگست 2016ء سے اگست2020ء کے درمیانی عرصے میں 13 ہزار شہریوں کو ہلاک کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کو پیش کردی ہے، جس میں بشار انتظامیہ کے جرائم کو ثبوتوں کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دیے گئے اعداد شمار کے مطابق 4 برس میں 2 ہزار 773 بچوں، 1445 خواتین سمیت 13 ہزار278 افراد کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا ہے جب کہ اسی عرصے میں مزاحمت کاروں کے زیر کنٹرول علاقوں کے محاصرے کے دوران 52 مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے حملے کیے گئے۔ علاوہ ازیں سیکڑوں شہری قلت خوراک کے باعث بھی لقمہ اجل بنے۔ واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے ہی شامی حکومت کے 6 اعلیٰ عہدیداروں اور کئی فوجی کمانڈروں کو بلیک لسٹ کرکے ان کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان شامی عہدیداروں پر جنگ بندی میں حائل ہونے اور اس کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ پومپیو کا کہنا تھا کہ بشارالاسد اور ان کے غیرملکی سرپرست یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب برا وقت کسی بھی لمحے آ سکتا ہے۔
