واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوؤں کی ان کے وطن واپسی کے سوال پر اختلافات کی وجہ سے سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کر دیا جو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق داعش کے جنگجوؤں سے متعلق جو قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اس کا مقصد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر کے ان کی بحالی اور از سر نو آباد کرنا تھا، تاہم امریکا کو اس قرارداد سے متعلق بعض اعتراضات تھے جس کی وجہ سے اس نے اسے ویٹو کر دیا۔ امریکا کا کہنا تھا کہ قرارداد میں داعش سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی جنگجوؤں اور ان کے اہل خانہ کی وطن واپسی سے متعلق اہم پہلو کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ قرارداد انڈونیشیا کی جانب سے اگست میں پیش کی گئی تھی تاہم اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے اس قراداد کو ناقص قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد نہ ہونے سے بھی بدتر ہے۔ واضح رہے کہ 15 رکنی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی امریکا کے علاوہ دیگر تمام 14 ارکان نے حمایت کی لیکن مستقل رکن کی حیثیت سے امریکا نے ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔
داعشی جنگجوؤں کی وطن واپسی سے متعلق قرارداد ویٹو
القمر
