واشنگٹن/ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزارت خارجہ نے چینی شہریوں کے ایک ہزار سے زائد ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ان کے چینی عسکری محکموں کے ساتھ روابط ہیں۔ امریکی حکام نے چین کے بعض گریجویٹس اور محققین کے لیے ویزوں پر پابندی بھی عائد کر دی ہے، تا کہ حساس نوعیت کی علمی تحقیقات کے سرقے کو روکا جا سکے۔ یہ بات امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کے ناظم الامور چاڈ وولف نے بتائی۔ واشنگٹن میں ایک تقریر میں چاڈ وولف نے چین پر ناجائز کاروباری طریقوں اور صنعتی جاسوسی کے الزامات لگائے، اور بیجنگ پر امریکی تدریسی اداروں کا استیصال کرنے کے لیے طلبہ کے ویزوں کو غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ چاڈ وولف نے چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جبری غلام کے ہاتھوں تیار ہونے والی مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی میں ریاست ٹیکساس ریاست کے دارالحکومت ہیوسٹن میں چینی قونصل خانے کی بندش کے احکامات جاری کیے تھے۔ یہ اقدام قونصل خانے کی جانب سے جاسوسی اور حقوق دانش کی چوری کے الزام کے تحت کیا گیا تھا۔ دوسری جانب چین نے امریکا کی جانب سے طلبہ اور محققین کے ویزے منسوخ کرنے کے عمل کو سیاسی انتقام اور نسلی امتیاز قرار دیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام چینی طلبہ اور محققین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور چین اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ امریکا میں تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار چینی طلبہ موجود ہیں۔ امریکا نے رواں سال مئی میں چین کے ساتھ تجارت، کورونا وائرس، انسانی حقوق اور ہانگ کانگ میں سیاسی بحران کے تناظر میں امریکی جامعات میں زیر تعلیم ہزاروں چینی طلبہ کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکا کی جانب سے کئی چینی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کا بھی قوی امکان ظاہر کیا گیا تھا، جس پر گزشتہ ماہ عمل بھی کیا گیا۔
امریکا میں ایک ہزار چینی شہریوں کے ویزے منسوخ
القمر
