صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل اور ڈرون حملوں میں سعودی عرب میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی عسکری اتحاد نے اس کی تردید کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق حوثی ملیشیا کے ترجمان کرنل یحییٰ سریع نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل اور 4 بم بار ڈرون طیاروں کی مدد سے ایک اہم ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان کے مطابق اس حملے میں ذوالفقار نامی بیلسٹک میزائل اور صماد 3 ڈرون طیارے استعمال کیے گئے۔ ایک ہفتے کے دوران حوثی باغیوں کی طرف سے یہ چھٹی کارروائی ہے۔ ادھر عرب اتحاد کے ترجمان کا کہناتھا کہ یمنی باغی نجران کے علاقے میں مسلسل آبادی کو ہدف بنارہے ہیں،تاہم اس دوران کوئی کارروائی بھی کامیاب نہیں ہوئی اور نجران کی سمت بھیجا جانے والا آخری ڈرون حملہ بھی فضا ہی میں ناکام کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب یمنی صوبے جوف کے شہر حزم کے مشرق میں کئی محاذوںپر یمنی فوج کی پیش قدمی جاری ہے۔ 4روز سے جاری لڑائی کے درمیان یمنی حکومت کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے باغیوں کے خلاف پیش قدمی کی اور اس دوران انہیں عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں کی معاونت حاصل رہی۔ یمنی فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ شہلا کے محاذ پر جھڑپوں کے بعد حوثیوں کے تمام ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا گیا۔ اس کے بعد نضود کے محاذ کی جانب پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ لڑائی کے دوران حوثی ملیشیا کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اور عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے حوثیوں کی 4گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔ یہ گاڑیاں باغیوں کے لیے کمک لے کر جا رہی تھیں۔ یمنی فوج نے حوثی ملیشیا کے فرار ہونے والے جنگجوؤں کا اسلحہ اور عسکری ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ واضح رہے کہ یمنی فوج نے اتوار کے روز بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا۔
یمنی باغیوں کا سعودی عرب میں اہم اہداف پر حملے کا دعویٰ
القمر
