
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دنیا میں 2 کروڑ 92لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور 9لاکھ 28 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ لیکن اُمید خوف کے سائے تلے پلتی ہے۔اچھے دنوں کی آس پر حکومتیں اپنی اگلی نسل کو میدان میں اتارنے پر غوروخوض کر رہی ہیں۔6مہینوں میں وائرس کو سمجھنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بچوں پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔مسلسل تحقیقات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ وائرس بچوں پر ایسے حملہ آور نہیں ہو رہا جیسا کہ بڑوں پر اس کے اثرات سامنے آئے ہیں۔اس لیے دنیا بھر میں جہاں جہاں حالات قابو میں آرہے ہیں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت پاکستان نے منگل 15 ستمبر سے مر حلہ وار اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے کھولنے کی گھنٹی بجا دی ہے۔فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نےا سکول کھلنے سے پہلے والدین اور سٹاف کے لیے ایس او پیز بھی بنا دیئے ہیں۔ پرنسپل کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایس او پیز کے مطابق اسکول میں ایک وقت میں تمام طالب علموں کو نہیں بلایا جائے گا بلکہ انہیں 25 کے گروپس میں متبادل دنوں میں بلایا جائے گا۔ اسمبلی کرانے اور کسی بھی قسم کی اجتماعی سرگرمی پر تا حکم ثانی مکمل پابندی ہو گی۔ کلاس رومز کی سیٹنگ میں طالب علموں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رکھنا،ماسک پہننا،ٹمپریچر چیک کرنا اور سینی ٹائزر کا استعمال وغیرہ کو یقینی بنانا بھی اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی۔والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ گھر سے بچوں کو ماسک پہنا کر بھیجیں اور اسکول وین میں بچوں کے فاصلے پر بیٹھنے کو یقینی بنائیں۔بخار،کھانسی اور زکام کی صورت میں بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور اگر بچے دو سے تین دن میں بہتر نہ ہوں تو انہیں کورونا ٹیسٹ کے لیے بھیجیں اور رزلٹ کے بارے میں فوری طور پر اسکول انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ وہ مناسب احتیاطی تدابیر کر سکیں۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ طالب علموں کو کورونا کے خطرات سے مسلسل آگاہ رکھیں۔خاص طور پرجن اشیاء کو زیادہ افراد استعمال کرتے ہیں مثلاًدروازوں کے ہینڈلز، کرسی کے بازو، میز کی سطح،کتابیں،کمپیوٹرز،کھیل کا سامان،جھولے اور سلائیڈز وغیرہ۔صرف 30 فیصد طالب علموں کو ہاسٹل میں رہنے کی اجازت ہو گی۔ انتظامیہ اسکول کوروزانہ کی بنیاد پرڈس انفیکٹ کرنے کی پابند ہو گی۔سانس کی تکالیف میں مبتلا طالب علموں اور اساتذہ کو اسکول آنے سے روک دیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں اسکول کم و پیش انہی ایس او پیز کے ساتھ کھولے جا رہے ہیں۔اگر ان پر عمل درآمد ہو جائے تو وبا ءکے سر اُٹھانے کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ امریکا اور چین کی کچھ تحقیقات جنہیں سنٹر فارڈیزیز کنٹرول نے شائع کیاہے،میں بتایا گیا ہے کہ بچوں میں یہ وائرس زیادہ اثر نہیں دکھاتی۔ جنوبی کوریا میں بھی ایک تحقیق کے مطابق10 سال سے کم عمر بچے یہ وائرس دوسروں تک پھیلانے کا سبب نہیں بنتے۔
اسکول کھلنے کے جہاں خطرات ہیں وہاں ثمرات بھی ہیں۔گھروں میں دیر تک بند رہنے سے بچوں میں چڑ چڑا پن، مایوسی اور اداسی پیدا ہوئی ہے، پڑھنے میں دل نہ لگنا، آن لائن کلاسز اور پھر ہوم ورک کی غیر ضروری طوالت نے بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے۔

روبینہ اقبال،ماہر نفسیات
ماہر نفسیات روبینہ اقبال کا کہنا ہے کہ اس دوران گھروں میں محدود ماحول اور روک ٹوک سے بچے چڑچڑے،متشدد، اور باہم مقابلے کی صحت مند فضا سے باہر ا ٓگئے ہیں۔غیر یقینی صورتحال نے بچوں میں بھی اپنی تعلیم،سماجی دوستیوںاور مستقبل سے متعلق خوف اورغیر یقینی پیدا کی ہے جس سے ا ٓنے والے دنوی میں ا ن کی تعلیمی سر گرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو ان حالات کو غیر معمولی جان کر طالب علموں کو زیادہ وقت اورحوصلہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو اور وہ تبدیل شدہ نظام تعلیم سے ایڈ جسٹ کر سکیں۔
آنے والے دنوں میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسکولوں کے لئے مرتب کردہ ایس او پیز پرکہاں تک عمل ہوتا ہےخاص طور پر دیہی اور چھوٹی رہائشی عمارتوں والے اسکولوں میں۔ اسی طرح ا سکول کوروزانہ کی بنیاد پر ڈس انفیکٹ کرنا بھی ایک چیلنج ہو گا اور ایسا کتنے عرصہ تک چلے گا؟والدین کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہو گی۔
شائد نئے انداز تعلیم میں اسکول نصاب کو بھی مختصر کرنا پڑے گا تاکہ اساتذہ اور طالب علموں پر سے کچھ بوجھ ہلکا ہو سکے۔اسی طرح امتحانی نظام بھی کچھ تبدیلیاں چاہتا ہے جو بدلتے حالات میں سہولت کا سبب ہوں۔جدید ٹیکنا لوجی کے استعمال سے آ ن لا ئن ٹیچنگ کے ساتھ ساتھ آ ن لا ئن امتحانات کا طریقہ بھی وضح کرنے کی ضرورت ہےتاکہ گروپس میں کام ایک ہی وقت مکمل ہو سکے۔
شفقنا اردو
ur.shafaqana.com
پیر،14 ستمبر2020
