نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں 30کروڑ افراد غذا نہ ہونے کے باعث موت کے دہان پر کھڑے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ڈیوڈ بیسلے نے دنیا بھر کے متمول افراد سے اپیل کی کہ وہ 30 کروڑ زندگیاں بچانے کے لیے بڑھ چڑھ کر عطیات دیں۔ ڈیوڈ بیسلے نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ دنیا میں تقریباً 27 کروڑ افراد بھوک سے موت کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں اور ورلڈ فوڈ پروگرام تقریباً 14 کروڑ افراد تک خوراک پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال تک کھانا کھلانے کے لیے 4.9 ارب ڈالر کی ضرورت ہوتی اور اگر ورلڈ فوڈ پروگرام نے مدد نہ کی تو 30 کروڑ افراد بھوک سے ہلاک ہو جائیں گے۔ بیسلے نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں 2ہزار مال دار افراد ہیں جن کی مجموعی دولت 80کھرب ڈالر ہے۔ ان میں اکثر نے کورونا وائرس کے دوران اپنی دولت میں کئی گنا اضافہ کرلیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس کی آمد کے بعد سے امریکی ارب پتیوں کی دولت میں مجموعی طور پر 19فیصد اضافہ ہوا،جو 50ارب ڈالر بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی بعض ریاستوں میں لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد 3ماہ کے دوران ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی دولت میں 36.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ فیس بک کے بانی مار زکربرگ کی دولت میں 30.1 ارب ڈالر کا اضافہ اور ٹیسلا کے سربراہ ایلن مسک کی مجموعی دولت میں 14.1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ کا کہنا تھا یہ وقت ان لوگوں کے لیے ہے، جن کے پاس سب سے زیادہ دولت ہے۔
