قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصرمیں اخوان المسلمون کے مزید13 رہنماؤں اور کارکنان کو پھانسی دے دی گئی۔ مصری ٹی وی نے بھی 13افراد کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پھانسی پانے والے تمام افراد اخوان المسلمون سے تعلق رکھتے تھے۔ان افراد پرمنتخب حکومت کا تختہ الٹنے والی فوجی حکومت کے خلاف بغاوت اور پولیس اہل کاروں پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔اس مقدمے میں 286 افراد کو گرفتارکیا گیا تھا جن میں سے بیشتر افراد کو ابتدائی سماعتوں کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔ترک اخبار کے مطابق پھانسی پانے والے13 رہنماؤں اور کارکنان کو عبدالفتح السیسی حکومت نے کئی سال سے قید کررکھا تھا۔ادھر اخوان المسلمون نے پھانسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت جب مصری حکومت کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں،حکومت سیاسی کارکنوں کو پھانسی دے کر نوجوانوں کو خوفزدہ کرنا چاہتی ہے۔ اخوان المسلمون نے کہا کہ ماضی میں بھی آمریت کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی جدوجہد جاری رہے گی، موت کی سزاؤں سے اسلامی تحریک کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پھانسی کی سزا اور عدالتی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔مصرکے سرکاری اداروں نے تا حال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔یادر رہے کہ 2013ء میں مصری فوج نے اخوان سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد سے اخوان المسلمون کے کئی رہنماؤں پر مقدمات قائم کیے جاچکے ہیں اور سیکڑوں کو قیداور سزائیں دی جاچکی ہیں،جبری طور پر معزول کیے جانے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو دوران قید زہریلی خوارک دے دے کرشہید کردیا گیا تھا۔
مصر میں اخوان المسلمون کے 13 رہنماؤں اور کارکنان کو پھانسی دے دی گئی
القمر
