


برتیسلاوا (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی سلامتی فورم (جی ایل او بی ایس ای سی) کے پندرہویں اجلاس میں شرکت کے لیے سلوواکیہ کے دارالحکومت میں موجود ترک وزیر خارجہ نے اپنے جرمن اور یونانی ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مولود چاوش اولو نے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس اور یونانی ہم منصب نیکوس ڈینڈیس کے ساتھ اجلاس میں مشرقی بحیرۂ روم میں تناؤ سمیت دو طرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مولود اولو نے دونوں رہنماؤں کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ترکی کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بحیرۂ روم میں ترکی کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے، جب کہ اس سلسلے میں ترکی نے کئی برس سے اپیل کررکھی ہے، تاہم اس پر توجہ نہیں دی جا رہی، جس کے بعد انقرہ نے 2018ء میں گیس کی تلاش کے لیے کھدائی کے کام کا آغاز کیا۔ کاراباخ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ خطہ 30 برس سے آرمینیا کے قبضے میں ہے اور آذربائیجان نے اس مسئلے کو پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے یونانی ہم منصب کو مخاطب کرکے کہا کہ جب تک جزیرے میں قبرصی ترکوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے، اس وقت تک مسئلہ قبرص حل نہیں ہو سکتا۔
