


منیاپولس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کے قتل میں گرفتار سابق پولیس افسر کو ضمانت پر رہا کردیا گیا، جس کے بعد ریاست منیاپولس میں ایک بار پھر احتجاج شروع ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق منیا پولس پولیس کے سابق افسر ڈیرک کو بدھ کے روز مشروط ضمانت پر جیل سے رہا کردیا گیا۔ عدالت نے ڈیرک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کرنے اور اسلحہ رکھنے پر پابندی بھی عائد کردی۔ سابق پولیس افسر کی ضمانت 10 لاکھ ڈالر کے عوض منظور کی گئی، جس کے بعد اسے ہینے پن کاؤنٹی جیل سے رہا کردیا گیا، جس کی جیل حکام کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی۔ اس کی رہائی کے بعد منیاپولس میں ایک بار پھر پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے باعث حالات بے قابو ہوگئے۔ سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کا واقعہ 25 مئی کو پیش آیا تھا، جس میں سفید فام پولیس اہل کار نے اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا تھا۔ جارج فلوئیڈ پولیس کو دم گھٹنے کا کہتا رہا، لیکن پولیس افسر نے سیاہ فام شہری کو نہیں چھوڑا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا، جب کہ واقعے کی وڈیو سوشل مـیڈیا پر وائرل ہوگئی اور امریکا بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ جارج فلوئیڈ کی موت کا الزام پولیس افسر ڈیرک اور 3پولیس اہل کاروں پر عائد کیا گیا تھا، جنہیں ملازمت سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ انہیں سیکنڈ ڈگری قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دیگر 3 پولیس اہل کاروں کی ضمانت 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کے عوض منظور کی گئی ہے۔
