واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی بینک نے دنیا بھر میں غربت سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔ عالمی بینک کے مطابق کورونا اورمعاشی بدحالی سے دنیاکی آبادی کا1.4فیصد حصہ انتہائی غربت کاشکار ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس 11کروڑ 50 لاکھ اور آیندہ سال کے آخر تک 15کروڑ افراد شدید غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیاگیا ہے کہ غریب ممالک کے علاوہ اوسط آمدن والے ممالک کے لوگ زیادہ غربت کاشکارہوں گے اور دیہی علاقوں کے ساتھ شہری علاقوں میں بھی غربت کی شرح بڑھ جائے گی۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ غربت کی شرح کم کرنے کے لیے دنیا بھرکے ممالک کو مل کرکورونا وائرس پرقابو پانا ہوگا، اور کورونا کے بعد تمام ممالک کو روزگارکے نئے ذرائع اور مواقع بڑھانے ہوں گے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث 2 دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد انتہائی غربت میں اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق یومیہ 1.90 ڈالر سے کم پر گزارا کرنے والے افراد کی تعداد رواں سال کے اختتام تک 72 کروڑ 90 لاکھ تک ہوسکتی ہے، جو دنیا کی موجودہ آبادی کا تقریباً 9.4 فیصد ہے۔ رپورٹ میں وبا کے باعث ہونے والی بیروزگاری کو اس انتہائی غربت کی وجہ بتایا گیا ہے۔ وبا کے باعث عالمی کساد بازاری سے مسلح تنازعات میں اضافے نے بھی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔
