


مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل نے افریقی ملک ایتھوپیا سے 2 ہزار یہود کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں لاکر بسانے کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ عن قریب افریقا سے فلاشا نسل کے یہودکو فلسطینی علاقوں میں آباد کریں گے۔ عبرانی ٹی وی چینل 7 کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے مذموم منصوبے کے لیے 37کروڑ شیکل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیا ن میں بتایا گیاکہ ایتھوپیا کے وزیراعظم آبی احمد سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں اس حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین سے سفارتی تعلقات کے بعد اسرائیلی حکومت نے اپنی قبضہ مہم مزید تیز کردی ہے۔ دوسری جانب جمعہ کے روز غزہ میں کئی مقامات پر اسرائیل فوج اور فلسطینی مزاحمت کاروں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج نے غزہ پر آنسو گیس کی بے تحاشا شیلنگ کی اور مسلمانوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی۔ کئی علاقوں میں نماز کے دوران صہیونی اہل کاروں نے فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ نہیں روکا اور فلسطینیوں کو جھڑپوں میں الجھائے رکھا۔ ادھر یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اور قریب ہی نماز پڑھنے والی خاتون کے گرد رقص کرتے رہے۔ اس موقع پر انہیں فلسطینی پولیس کی سیکورٹی حاصل رہی اور وہ دندناتے ہوئے نمازیوں کو اشتعال دلاتے رہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کی نسل پرستانہ انتقامی کارروائیوں کے تحت اسکولوں کی مسماری کا سلسلہ بند کرانے کے لیے دبائو ڈالے۔ فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صہیونی حکومت مشرقی رام اللہ میں راس التین میں قائم اسکول کو مسمار کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ بیان میںمزید کہا گیا کہ اسرائیل غرب اردن میں عالمی اداروں کی فنڈنگ سے تعمیر کیے گئے اسکولوں اور دیگر املاک کی مسماری کی گھنائونی مہم جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد فلسطین کے تعلیمی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔ غرب اردن میں فرانس، فن لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، آئرلینڈ، اسپین، برطانیہ اور سوئیڈن کے اشتراک سے کئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، تاہم صہیونی بلدیہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیںمسمار کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل راس التین کے مقام پر جس اسکول کو مسمار کرنا چاہتا ہے وہ پہلی سے چھٹی کلاس تک کے طلبہ کے لیے ہے اور وہاں50طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ اسرائیل نے اسکول کوغیرقانونی قرار دے کر مسمار کرنے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔
