گوادر (نمائندہ جسارت) نیشنل پارٹی گوادر کے زیر اہتمام سندھ بلوچستان کے جزائر کو وفاق کے تصرف میں لانے، وفاقی ڈیپ سی فشنگ پالیسی اور ساحل مکران پر غیرقانونی ٹرالرنگ کیخلاف پریس کلب گوادر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں نیشنل پارٹی اور بی ایس او (پجار) کے کارکنوں کی بڑی تعداد کے علاوہ سول سوسائٹی سے وابستہ افراد بھی شریک تھے، مظاہرین نے مطالبات کے حق میں اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے تحت سندھ بلوچستان کے جزائر کو وفاقی تصرف میں لانے کا فیصلہ ساحلی پٹی کو صوبوں سے جدا کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے جس کی ابتدا کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے ہوئی تھی جس کیخلاف ہونے والے منظم عوامی احتجاج کے بعد اب اس کو نئی شکل میں نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی رو سے ساحل اور جزائر کی ملکیت صوبوں کی ہے لیکن سلیکٹڈ اور ڈمی حکومت، صوبوں کو حق ملکیت سے محروم کرکے صوبائی خود مختاری پر حملہ آور ہوے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جزائر کی ترقی صرف بہانہ ہے اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہوتی تو وہ ساحل کنارے آباد ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتی، جس کی واضح مثال گوادر کے ماہی گیر ہیں۔ گوادر کے مقامی ماہی گیروں کا روزگار ایسٹ بے ایکسپریس وے کے منصوبے سے متاثر ہونے جارہا ہے لیکن ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے بجائے ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جزائر کی ترقی کا آرڈیننس صوبوں کے وسائل کو ہتھیانے کی کوشش ہے جو کسی بھی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جزائر پر قبضے کے فیصلے سے قبل وفاقی حکومت ڈیپ سی فشنگ پالیسی کے نفاذ کا بھی فیصلہ کرچکی ہے جس کی آڑ میں غیر ملکی فشنگ دیوہیکل لانچوں کو سمندر تاراج کرنے کا لائسنس جاری کیا جائے گا جبکہ ماہی گیر پہلے سے بین الصوبائی غیرقانونی ٹرالرنگ کی وجہ سے نان و نفقہ سے محروم کردیے گئے ہیں۔ ساحل مکران پر جاری غیرقانونی ٹرالرنگ کو سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔ نہوں نے کہا کہ صوبے کے جزائر پر غیر آئینی قبضہ اور غیر قانونی ٹرالرنگ کسی بھی صورت قبول نہیں اگر صوبے کے عوام کو حق ملکیت سے محروم کیا گیا تو سیاسی جدوجہد سے اس کی مزاحمت کریں گے۔ مقررین میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبران اشرف حسین، حمید انجینئر، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر آدم قادر بخش، ضلعی صدر فیض نگوری، تحصیل گوادر کے صدر ناگمان بلوچ، نصیر نگوری، بی ایس او (پجار) گوادر زون کے صدر خداداد اور گوادر ماہی گیر عوامی اتحاد کے صدر غفور ساجد شامل تھے۔
سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ قبول نہیں،نیشنل پارٹی
القمر
