English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قائد اعظم کی ہدایات پر عمل ہوتا تو سقوط ڈھاکا نہیں ہوتا‘ نوازشریف

القمر

لندن(صباح نیوز)سابق وزیر اعظم‘مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر72برس قبل بانی پاکستان محمد علی جناح کی سیاست میں فوج کے کردارپر دی گئی ہدایات پر عمل کیا گیا ہوتا تو نہ مشرقی پاکستان الگ ہوتا اور نہ ہی 12 اکتوبر1999ء جیسی بغاوت ہوتی۔انہوں نے ٹوئٹر پر یہ بیان پیرکو اپنی دوسری حکومت کے خاتمے کے21برس مکمل ہونے پر جاری کیا۔یاد رہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے12اکتوبر1999ء کو میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس کے بعد پرویز مشرف2008ء تک صدرمملکت کے عہدے پربراجمان رہے تھے جب کہ نواز شریف 2013ء میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے۔اپنی ٹوئٹ میں نواز شریف نے وہ تاریخی تصویر شامل کی جس میں فوج کے اہلکار12اکتوبر1999ء کو اسلام آباد میں سرکاری ٹی وی کا گیٹ پھلانگ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی نواز شریف نے محمد علی جناح کا ایک قول شامل کیا جس میں انہوں نے کہا تھا’’ مت بھولیں کہ مسلح افواج عوام کی خادم ہیں‘آپ قومی پالیسی ساز نہیں ہیں، یہ ہم سویلین ہیں جن کا کام ان مسائل پر فیصلہ کرنا ہے اور آپ کا کام ان فرائض کو بجا لینا ہے جو آپ کو سونپے گئے ہیں‘‘۔نواز شریف نے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ اگر ان ہدایات پر عمل کیا جاتا تو نہ ہی عوام کے منتخب وزیر ِاعظم کو گرفتار کرنے کے لیے پرائم منسٹر ہائوس فتح کیا جاتا‘اسی لیے ہم کہتے ہیں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘۔یاد رہے کہ نواز شریف نے کچھ روز قبل اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج تب ہوگی جب آئین کی پاسداری کرے گی ۔ نواز شریف کی پیر کو کی جانے والی ٹوئٹ اس تسلسل کا حصہ ہے جس میں انہوں نے بار بار پاکستان میں فوج کے آئینی کردار پر بات کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس ادارے کو سیاست میں مداخلت نہیںکرنی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے