English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری جاری،سینکڑوں مکانوں کی منظوری

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں تسور ہداسا نامی غیر قانونی یہودی بستی میں آباد کاروں کے لیے سیکڑوں نئے رہایشی یونٹ تعمیر کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ بستی ماضی میں وادی فوقین نامی گاؤں میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ عبرانی میڈیا کے مطابق تسور ہداسا میں 500 رہایشی یونٹ تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔ قابض صہیونی حکام نے فلسطین پر قبضے کے بعد سے ہی شہر کے آس پاس اپنی غیرقانونی بستیوں میں توسیع کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا تھا۔ اس طرح کے منصوبوں کا تازہ ترین حصہ عرب وتعمیرہ گاؤں کو دوبارہ آباد کرنا تھا، تاکہ اس کی زیادہ سے زیادہ زمین یہودی بستیوں میں مل جائے۔ دوسری جانب درجنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے منگل کی صبح مشرقی رام اللہ کے قصبے البرقع میں فلسطینی باغبانوں کو تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کردیا۔ باغبانوںپر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ زیتون کی فصل اتارنے کے لیے اپنے باغات کی طرف جارہے تھے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ 50 سے زائد آباد کاروں نے باغبانوں کے ایک گروہ پر گھات لگا کر حملہ کیا۔اطلاع ملنے پر درجنوں مقامی شہری باغبانوں کے دفاع اور اپنی فصلوں کی کٹائی میں مدد کے لیے علاقے میں پہنچ گئے، لیکن اسرائیلی فوجیوں نے یہودی حملہ آوروں کی حفاظت کے لیے مداخلت کی اور مقامی افراد کو حملے کا جواب دینے سے روکا۔ ذرائع کے مطابق آباد کاروں کے حملے میں 4 باغبان زخمی ہوگئے، جب کہ آباد کاروں کے ایک گروہ نے بیت لم کے جنوب مغرب میں واقع جبعہ گاؤں میں فلسطینی کسانوں کے باغات سے زیتون چرانے کے بعد درختوں کو تباہ کردیا۔ ادھر قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح غزہ کی محصور پٹی کے جنوب مشرقی علاقے میں محدود دراندازی کے دوران بڑی کاشت شدہ اراضی کو تباہ کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق 5 بکتر بند بلڈوزروں نے خان یونس کے مشرق میں عبسان اور خزاعہ کے مشرقی علاقے پر حملہ کیا، اور زرعی اراضی کو ملیامیٹ کردیا۔ درجنوں ایکڑ اراضی پر کاشت شدہ فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے