لکسمبرگ (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناولنی کو زہر دینے کے معاملے پر ماسکو کے خلاف پابندیوں پر اتفاق کرلیا۔ لکسمبر گ میں یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فرانس اور جرمنی کو پابندیوں کا خاکہ تیار کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس اور جرمنی کی طرف سے گزشتہ ہفتے ماسکو پر پابندیوںکی تجاویز پیش کی گئی تھیں،جس پر یورپی یونین کے 27 وزرا نے اتفاق کیا۔ پیرس اور برلن حکام کا موقف ہے کہ روسی حکومت کے ایما کے بغیر ناولنی کو زہر نہیں دیا جاسکتا تھا۔ ناولنی کے جسم میں نوویچوک نامی زہر کی موجودگی کے بارے میں کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق عالمی تنظیم اوپی سی ڈبلیو کی رپورٹ پر روس کوئی ٹھوس جواب نہیں دے جاسکا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے خلاف یہ پابندی فوری طور پر نافذ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ اس سے متعلق تفصیلات کو پہلے یورپی یونین کے رکن ممالک کے ماہرین قانون کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو اس پر غور و خوض کے بعد منظوری دیں گے۔ ادھر جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے اجلاس میں وزرائے خارجہ اس بات پر متفق تھے کہ ناولنی کو زہردینے کے معاملے پر کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔برلن نے پیرس کے ساتھ مل کر چند افراد پر پابندیوں کی تجویز پیش کی تھی،جن پر ہماری پہلے ہی نظر تھی۔ 27 وزرائے خارجہ میں اس بات پر بڑی حد تک اتفاق رائے پایا گیا کہ روسی جی آر یو ملٹری انٹیلی جنس کے کئی افسران کے اثاثوں کو منجمد کردیا جائے اور ان پر سفری پابندیاں عائد کردی جائیں۔ یادر ہے کہ کریملن کے ناقد ناولنی 20 اگست کو سائبیریا سے ماسکو جارہے تھے کہ، اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔ بعد میں انہیں علاج کے لیے جرمنی لایا گیا اور برلن کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔ جرمن فوجی لیبارٹری نے ان کے حاصل شدہ خون کے نمونے کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ناولنی کے علیل ہونے کی وجہ روسی ساختہ زہر نوویچوک کا دیا جانا تھا۔
یورپی یونین روس کیخلاف پابندی عائد کرنے پر متفق
القمر
