ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ہندو نوجوانوں کو جبری مسلمان کرنے کی رپورٹ مسترد

ڈھرکی( نمائندہ جسارت)سابق رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو نے نوعمرنوجوان ہندو لڑکیوں اور لڑکوں کومبینہ زبردستی مسلمان کرنے کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان آئینی رٹ داخل کرنے کا اعلان کردیا ۔ہندو برادری کے بچوں کو زبردستی مسلمان کرنے کے متعلق سینیٹرانوار الحق کاکڑ کی تحقیقاتی رپورٹ ہندو ازم (اسلام دشمن) لابی کی خواہشات کی بنیاد پر مکمل طور یکطرفہ اور حقائق اور اسلام تعلیمات سے لاعلمی کا عکاس اور شریعت محمدی کی آفاقی تعلیمات کے خلاف کھلم کھلا سازش ہے۔اور ہم کو ہر لحاظ سے رد کرتے ہوئے اس رپورٹ کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی رٹ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو نے ڈھرکی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ میں میاں مٹھو تحقیقاتی کمیشن اور اپنے پاکستانی ہندو بھائیوں اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو پاکستان بھر میں کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت اپنے اوپر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات پر “اوپن مناظرے” کا چیلنج دیتا ہوںاگر میرا ہندؤوں کو مسلمان کرنا خلاف شریعت محمدی اور آئین پاکستان کے خلاف ہو تو میں خود ہر سزا کو خوشی،خوشی بھگتنے کا وہیں اعلان کرونگا۔انہوں نے کہ سنیٹر انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی نے مجھے اپنا موقف دینے کے لیے بلایا ہی نہیں گیا بلکہ میری غیر موجودگی میں اور ہمارا مؤقف سنے بغیر ہی صرف رپورٹ جاری کردی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں