کراچی: فرانسیسی اخبار چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے مسلمانوں اور اسلام مخالف بیانات دینے پر جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں وہیں پاکستان شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد بھی رنجیدہ ہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں۔
احسن خان نے ٹوئٹر پر فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا اگر فرانس واقعی ایک جمہوریہ ہے تو پھر وہاں آزادی ہونی چاہئیے۔ لیکن آزادی کے نام پر دوسرے مذاہب کی توہین نہیں ہونی چاہیئے۔ میں اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی شان میں ہونے والی اس گستاخی پر اپنے پورے دل سے احتجاج کرتا ہوں۔ اب اس چیز کو (گستاخانہ خاکوں کی اشاعت) کو رکنا ہوگا۔
If France is indeed a republic then there should be liberty there not insults upon anothers religion. I completely and whole heartedly protest against this blatent disrespect of our beloved prophet Muhammad (PBUH) this needs to stop.
— Ahsan Khan (@Ahsankhanuk) October 27, 2020
فیروز خان نے بھی ٹوئٹر پر فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا ’’حضرت محمدﷺ سب سے پہلے‘‘ اس کے ساتھ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے تمام مسلمانوں سے معافی مانگنے اور فرانسیسی پروڈکٹس کے بائیکاٹ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
– Prophet Mohammad ﷺ before anyone. #MacronApologizeToMuslims #boycottfrenchproducts
— Feroze Khan (@ferozekhaan) October 27, 2020
حمزہ علی عباسی نے ٹوئٹر پر لکھا کسی بھی مذہب سے اختلاف کرنا یا اس پر تنقید کرنا آپ کا حق ہے لیکن جانتے بوجھتے دانستہ طور پر اشتعال دلانے کے ارادے سے طنز کرنا آپ کا حق نہیں۔ یہ غیر اخلاقی اور غیر مہذب ہے۔ اور ہم مسلمان دنیا کو یہ امن اور مذاکرات کے طریقے سے سمجھا سکتے ہیں۔ قتل، جنگ اور دشمنی سے نہیں۔
It is ur right to disagree criticise but IT IS NOT UR RIGHT TO MOCK WITH THE INTENT TO DELIBERATELY INSULT PROVOKE, its immoral, unethical and uncivilised and the only way we Muslims can make the world understand that is solely by peace dialogue not murder, war hostility.
— Hamza Ali Abbasi (@iamhamzaabbasi) October 27, 2020
واضح رہے کہ فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مسلسل نفرت انگیز بیانات اور اقدامات سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ ماہ رسوائے زمانہ اخبار چارلی ہیبڈو کی جانب سے ایک مرتبہ پھر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اسی دوران فرانسیسی صدر نے ایک تقریب میں اسلام کے بارے میں کہا کہ یہ ایک بحران میں گھرا مذہب ہے اور یہ تاثر بھی دیا کہ مسلمان فرانس میں علیحدگی پسند جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔
خاکوں کی اشاعت کے بعد ایک مقامی اسکول کے بچوں میں توہین آمیز خاکوں کا پرچار کرنے والے استاد کے قتل کے بعد سے صدر میکرون کے بیان نے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی نئی لہر کو جنم دیا جس کے باعث کئی مساجد بند پڑی ہیں اور مسلمانوں پر نفرت انگیز حملے عروج پر پہنچ چکے ہیں۔
