English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلادیش احتجاج: حضورﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے

ڈھاکا: فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر مظاہرین نے حکومت کو الٹی میٹم دیے گیا ہے کہ ملک میں موجود فرانسیسی سفارتخانہ فورا بند کیا جائے جبکہ  بنگلادیش کے مختلف شہرون میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بنگلادیش میں فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بنگلا دیش کی بڑی مذہبی جماعت ’حفاظت اسلام‘ نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج میں حکومت کو 24 گھنٹوں میں فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق  حفاظت اسلام جماعت نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف مرکزی جامع مسجد بیت المکرم سے مارچ کا آغاز کیا ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور مظاہرین مارچ کرتے ہوئے بنگلادیش میں فرانسیسی سفارتخانے کے سامنے پہنچے جہاں شدید احتجاج کیا گیا جبکہ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فرانس سے تعلقات ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات درج تھے اور میکرون کے پتلے کو بھی نذر آتش کیا گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق حفاظت اسلام کے سربراہ جنید بابونگری نے بنگلادیشی حکومت کو فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کیلئے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو یہیں تک نہیں رکیں گے بلکہ سفارتخانے پر حملہ کر دیں گے جبکہ  او آئی سی سمیت دیگر مسلم ممالک سے بھی فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بنگلادیشی تنظیم نے عوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب  انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں بھی فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے متنازع بیانات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا جبکہ  جکارتہ میں موجود فرانسیسی سفارت خانے کے باہر ہزاروں کی تعداد میں شہری جمع ہوئے اور فرانسیسی صدر کیخلاف احتجاج کیا گیا اور مظاہرین نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے اور فرانسیسی صدر سے ان کے اسلام مخالف بیانات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ یورپ میں بسے مسلمانوں کو منظم طریقے سے مذہبی منافرت کا نشانہ بناتےہوئے ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔

– – –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے