کراچی : امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا جماعت اسلامی سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے،جب تک سندھ کے عوام تیار نہ ہوں ان جزائر پر کچھ نہیں کیا جاسکتا .
وفاقی حکومت اشیائے خوردنوش سمیت عام استعمال کی چیزوں کو 25جولائی 2018کی قیمتوں پر فوری بحال کرے
حکومت کے پاس کشمیر کے مسئلے کے لیے کوئی ایکشن پلان نہیں ہے . پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا .
مہنگائی کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے . باجوڑ میں جلسہ کیا ہے . دیر،بونیر اور پشاور کے بعد اسلام آبادمیں بھی احتجاج کریں گے
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ فرانس کے صدر کی جانب سے توہین رسالتؐ اور گستاخانہ خاکوں کی سرکاری سرپرستی کے خلاف اور تحفظ ناموس رسالت ؐ کے حوالے سے اتوار15نومبر کو کراچی میں شاہراہ فیصل پر عظیم الشان ملین مارچ منعقد کیا جائے گا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اشیائے خوردنوش سمیت عام استعمال کی چیزوں کو 25جولائی 2018کی قیمتوں پر فوری بحال کرے،
وفاقی حکومت نے سندھ کے اسٹیک ہولڈرز کے مشورے کے بغیر جزائر پر قبضے کی کوشش کی ہے جماعت اسلامی سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے،جب تک سندھ کے عوام تیار نہ ہوں ان جزائر پر کچھ نہیں کیا جاسکتا،یہ اقدام وفاق اور فیڈریشن کو نقصا ن پہنچانے والا عمل ہے،حکومت کے پاس کشمیر کے مسئلے پر کوئی ایکشن پلان نہیں ہے،
UNOمیں ایک تقریرکے بعد وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر پر پُر اسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ہے،مقبوضہ کشمیر میں ہندوآباد ی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اگر اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو وہاں مسلمان اقلیت میں بن جائیں گے،پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی حکومت کی طرح پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔
مہنگائی کے خلا ف پورے ملک میں مہم شروع کی ہے، ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ قیمتوں میں اضافہ واپس لے۔حکومت کی معاشی پالیسی اور مہنگائی کو مسترد کرتے ہیں، ہم نے باجوڑ میں جلسہ کیاتھا،بونیر میں جلسہ کریں گے اور پھر پشاور اور اسلام آباد میں بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔جب عوام نکلیں گے تو حکمرانوں کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔
سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ ملک میں بے یقینی ہے، کراچی سے چترال تک 22کروڑ عوام پریشان حال ہیں، حکومت نے جو وعدے، اعلانات اور سبز باغات دکھائے تھے،2سال 800دن مکمل ہوگئے لیکن ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا،معیشت، امن وامان کی صورتحال، خارجہ پالیسی، کسی چیز کے حوالے سے عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملا،
حکومت ہر شعبے میں ناکام ہوگئی ہے، معیشت ایک تماشا بن گئی ہے،ملک کی کرنسی چھوٹے ممالک سے بھی کم ترہوگئی ہے،چیزوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، وزیر اعظم جب منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے بجلی اور چینی کی قیمتوں کا نوٹس لیا توا شیائے خوردنوش سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔دواؤں کی قیمتوں میں 500فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے
عام انسان کی روزانہ کی ضرورت کی چیزیں مہنگی کردی گئی ہے،ہر دن نیا بجٹ آتا ہے اور قیمتوں کا نیا تعین ہوتا ہے،قیامت خیز مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے،آٹے کی قیمت میں 20فیصد،چینی کی قیمت میں 40فیصد،تیل اور پیٹرول کی قیمت میں 30فیصد گیس کی قیمت میں 50 فیصد اور بجلی کی قیمت میں 35 فیصد کمی کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے بھی اربوں روپے کے قرضے معاف کیے ہیں،غریبوں کے بجلی کے بل معاف نہیں کیے جاتے،بڑے بڑے لوگوں کے قرضے معاف کردیے جاتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ان معاف کیے گئے قرضوں کو واپس لے۔ملک میں ایک شفاف ایکشن کے لیے اصلاحات پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے،اگر ان اصلاحات کو حکومت نہیں مانتی تو اس کا مطلب ہے کہ یہ حکومت آئندہ انتخابات دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے کشمیر کو بھارت کے حوالے کردیا ہے،حکومت کے پاس کشمیر کے مسئلے پر کوئی الیکشن پلان نہیں ہے، UNOمیں ایک تقریرکرنے کے بعد وزیر اعظم نے عملی اقدامات کی بجائے کشمیر کے مسئلے پر پر اسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ہے،مقبوضہ کشمیر میں ہندوآباد ی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اگر اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو وہاں مسلمان اقلیت میں بن جائیں گے،
بھارت پاکستان کو پانی سے مکمل طور پر محروم کرنا چاہتا ہے،کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد بھارت پاکستان کا پانی بند کردے گا۔انہوں نے کہاکہ فوج ملک کی حفاظت کی ضمانت ہے لیکن جب وہ سیاسی معاملات میں شامل ہوتی ہے اور تو پھر وہ عام آدمی کے لیے موضوع بحث بن جاتی ہے.
انہوں نے کہاکہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا،مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرح اس حکومت نے بھی کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا،اب تو ان کی رہائی کی بجائے سزا میں اضافہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کا مشترکہ وفد امریکہ جائے اورڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کوشش کرے،ریمنڈ ڈیوس، ابھینندن، ایمل کانسی کو رہا کرسکتے ہیں تو ڈاکٹر عافیہ کو واپس کیوں نہیں لاتے۔
انہوں نے کہاکہ تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے آج پوری دنیا میں ایک اشتعال پیدا ہوگیا ہے،فرانس کے صدر نے پونے دو ارب مسلمانوں کے احساسات و جذبات کو مجروح کیا ہے لیکن بدقسمتی سے عالم اسلام کے حکمرانوں نے اب تک کوئی سنجیدہ اور عملی اقدام نہیں اٹھایا،
حکمرانوں کے پاس ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے کوئی ایکشن پلان نہیں ہے لیکن امت کے عوام متحد ہیں، عوام نے پرزور آواز اٹھائی ہے،نبی کریمؐ سے عقیدت و محبت کا بھرپور اظہار کیاہے، ہمارا ایمان ہے کہ حضورکی ذات گرامی ہمارے لیے ہمارے ماں باپ سے بھی زیادہ اہم ہے ان کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی،
فرانس کے صدر جانب سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت اور شان رسالت ؐ کی توہین کرنے کے خلاف پاکستان میں زبردست احتجاج کیا گیا،کراچی میں بھی جماعت اسلامی نے احتجاج کیا،خواتین نے زبردست مظاہرہ کیا، جماعت اسلامی کراچی کے تحت 15نومبر کو ناموس رسالتؐ کے حوالے سے ملین مارچ کیا جائے گا۔جماعت اسلامی عوام کی نمائندگی کررہی ہے اور جماعت اسلامی ہی عوام کی حقیقی ترجمان ہے،ملک کے تمام مسائل کا حل اور بحرانوں سے نجات کا واحد راستہ اسلامی نظام کا قیام ہے، عوام نے ملک میں جمہوریت اور مارشل لاء کی حکومت دیکھ لی ہے، اسلامی اور خوشحال پاکستان صرف اسلامی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ان خیالات کااظہا را نہوں نے فاران کلب میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر راشد نسیم کی صاحبزادی کی تقریب نکاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مرکزی نائب امراء اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، امیر صوبہ سندھ محمد حسین محنتی، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ودیگر ذمہ داران بھی موجو دتھے۔

