بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے اپنی منڈیوں کو مزید کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ شنگھائی میں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ایک وڈیو تقریر میں شی جن پنگ نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ ایک نظام کی اجارہ داری قائم اور تحفظ پسندی کو بین الاقوامی نظام کمزور نہ کرنے دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین اگلے 10 برسوں میں 220 کھرب ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کرنے کی توقع کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین منڈیاں کھولنے کے فوائد سے متعلق اپنے یقین پر قائم رہے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چین کھلے دل، تعاون اور اتحاد کے ساتھ سب کے فائدے کے لیے پُرعزم رہے گا اور مستقل مزاجی سے ہر در کھولنے کو فروغ دے گا۔ رواں سال اس ایکسپو میں جاپان سے لگ بھگ 400 کمپنیاں اور گروپ حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب چین نے کورونا وائرس سے بری طرح متاثر 3 مماک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر کے بعد اپنے ملک میں سختیاں بڑھادی ہیں اور کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وائرس سے بری طرح متاثرہ ملک برطانیہ، بلجیم اور فلپائن کے شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ چین نے امریکا، فرانس اور جرمنی کے شہریوں سے چین آمد پر صحت سے متعلق اضافی ٹیسٹ کے نتائج دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
چینی صدر کی امریکی اقتصادی پالیسی پر کڑی تنقید
القمر
