واشنگٹن: امریکی ماڈل حلیمہ عدن نے ماڈلنگ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کام کی وجہ سے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ ہو وہ کام چھوڑ دینا چاہتی ہوں۔
معروف امریکی ماڈل حلیمہ عدن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شوبز کی چمکتی دمکتی دنیا کو مذہب کی خاطر چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ اس کام کی وجہ سے اکثر نماز کی ادائیگی میں تاخیر اور حجاب کے بغیر ماڈلنگ پر میں اکثر اپنے کمرے میں روتی تھی۔
The Queen has finally won 😂👑🙌🏾 as tf she should because she’s the reason for all my success and happiness ♥️✊🏿🥺 my new goal in life is to just make her proud! My best friend! My whole heart ❤️ https://t.co/1Jh6rSxIo7
— Halima Aden (@Kinglimaa) November 25, 2020
حلیم عدن کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران بہت سی چیزوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا، مجھے وہ کام کر کے رنج ہوتا جسے نہ تو میں دل سے کرنا چاہتی تھی اور نہ میرا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور میری ماں کی بھی یہی خواہش تھی۔
صومالیہ میں پیدا اور کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں کئی برس رہنے والی امریکی ماڈل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ فیشن میرے لیے نہیں ہے میں لوگوں کے لیے ہوں۔ دراصل میں اپنے ایمان کے لیے ہوں اور اب میں بیدار ہوچکی ہوں۔
Fashion was NEVER for me. I am for the PEOPLE! I am for my IMAAN! I have WOKEN UP!!! https://t.co/kuzoZLfgZi
— Halima Aden (@Kinglimaa) November 25, 2020
واضح رہے کہ حلیمہ عدن کو اس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے مقابلہ حسن کے بکنی پہننے والے مقابلے میں بھی مکمل اسلامی لباس پہنا تھا اور اپنے سارے کیریئر میں انہوں نے حجاب کو اپنائے رکھا۔
