اسلام آباد(نمائندہ جسارت+آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے جس میں تعمیراتی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے، تعمیراتی شعبے سے منسلک صنعتوں کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔جمعرات کو وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، تعمیرات و ترقی کا ہفتہ وار اجلاس ہوا ۔گورنر اسٹیٹ بینک نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ بینکوں نے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے ضمن میں
دیے گئے سہ ماہی اہداف کو بڑی حد تک مکمل کیا ہے، بینکوں کو اس سلسلے میں صارفین کو مزید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کیا کہ اسٹیٹ بینک کے 100سے زائدافسران روزانہ کی بنیاد پر مختلف بینکوں میں “مسٹری شاپنگ” کر رہے ہیں تاکہ صارفین کو میسر سہولیات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا سکے اور انہیں یقینی بھی بنایا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آٹومیشن کی عمل پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس ماہ کے آخر تک اسے مکمل کر لیا جائے گا۔اس عمل کے مکمل ہونے سے عوام کو غیر ضروری طور پر دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ انہوںنے مزید بتایا کہ نیو بلیو ایریا میں فروخت کیے گئے 12 میں سے چار کمرشل پلاٹوں کے نقشے سی ڈی اے کو موصول ہو چکے ہیں جن پرتعمیراتی کام جلد شروع ہو جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں گرین ایریاز کو بچانے کے لیے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔علاوہ ازیں وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے تعمیراتی شعبے میں جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کو سستی چھت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے ملک بھر کے کسانوں کے لیے پیکج پر عملدرآمد شروع نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری کو تحقیقات کا حکم دے دیا ۔دریں اثناء پیٹرول بحران کی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بحران کا باعث بنیں، پیٹرول پمپس کو جان بوجھ کر سپلائی روکی گئی، کمپنیوں کے پاس ذخیرہ ہونے کے باوجود مصنوعی بحران پیدا کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور ڈی جی آئل پیٹرول کی دستیابی یقینی بنانے میں ناکام رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے نجی مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذخیرے کی جانچ پڑتال کی گئی،پیٹرول بحران کے دوران کمپنیوں کے پاس ذخیرہ وافر مقدار میں موجود تھا، بحران کے دوران حکومتی اداروں نے کمپنیوں کے ذخیرے کی جانچ پڑتال نہیں کی۔ رپورٹ میں تحقیقاتی کمیٹی نے بحران کے ذمے داران کا تعین کر دیا ہے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش کر دی۔ مزید برآں برطانوی شہزادہ چارلس نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اورکورونا سے جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہارکیا اورپاک برطانیہ تعلقات بہتر بنانے پر بھی گفتگو کی۔شہزادہ چارلس نے کہا کہ وبائی امراض کے دوران برطانیہ پاکستان میں ضرورت مند لوگوں کو مدد فراہم کررہا ہے۔ٹیلیفونک رابطے کے دوران مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پراتفاق کیا گیا جب کہ شہزادہ چارلس نے عمران خان سے کہا کہ برطانیہ اگلے سال سی او پی 26 کی میزبانی کرے گا۔ برطانوی شہزادے نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کی حمایت کرتا ہے۔قبل ازیں وزیراعظم نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ معذورافراد کو ماہانہ 2ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، خصوصی افراد کی بہتری کی سمت یہ حکومت کا اہم قدم ہے،احساس کفالت پالیسی سے 20لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔

